معین نظامی کے تمام مواد

9 غزل (Ghazal)

    ہے تحیر زدہ اس شہر میں خاموشی بھی

    ہے تحیر زدہ اس شہر میں خاموشی بھی کہ سنائی نہیں دیتی کوئی سرگوشی بھی دل گرفتار تذبذب ہے کدھر کو جائے گھر بھی یاد آتا ہے اور دشت فراموشی بھی یہ حقیقت ہے کہ بے مثل ہے خود اس کی طرح اس خوش اندام کی خوش باشی و خوش پوشی بھی ایک دیوار سے مل جاتا ہے سایہ بھی ہمیں اور چاہیں تو کچھ احساس ...

    مزید پڑھیے

    بے مہری‌ٔ دوستاں الگ ہے

    بے مہری‌ٔ دوستاں الگ ہے اور اس پہ غم جہاں الگ ہے اعصاب الگ تھکے ہوئے ہیں اور دل ہے کہ سرگراں الگ ہے اس رنج کو بیچ میں نہ لاؤ اس رنج کی داستاں الگ ہے موقوف ہے جو تری نظر پر وہ لذت جاوداں الگ ہے سر سبز ہے جو ترے کرم سے وہ شاخ ملال جاں الگ ہے اے مجمع علم و فضل و دانش تم سب سے مرا ...

    مزید پڑھیے

    دل میں یاد خدا بھی آتی ہے

    دل میں یاد خدا بھی آتی ہے خواہش ما سوا بھی آتی ہے اس تضادات کے جزیرے پر حبس ہے اور ہوا بھی آتی ہے روشنی بھی ہے اس اندھیرے میں خامشی ہے صدا بھی آتی ہے خواہشوں سے ادھر کی خواہش میں ہمیں دل سے حیا بھی آتی ہے کل دعا نے یہ مجھ سے پوچھا تھا کیا تمہیں بد دعا بھی آتی ہے

    مزید پڑھیے

    تجھ تک بچا کے لائی ہے میری جبیں مجھے

    تجھ تک بچا کے لائی ہے میری جبیں مجھے ورنہ تو دل نشیں تھے بہت کفر و دیں مجھے مجھ کو وہ چہرہ خواب میں دیکھا ہوا لگا دیکھا ہوا تھا اس نے بھی شاید وہیں مجھے تقسیم کرنے والے نے ایسا کرم کیا انگشتری کسی کو ملی اور نگیں مجھے مجھ پر عطائے خاص ہے سانپوں کے باب میں رکھتی ہے خود کفیل مری ...

    مزید پڑھیے

    میں نے کہا تھا آج نہ جائیں گھوڑے بے حد تھکے ہوئے ہیں

    میں نے کہا تھا آج نہ جائیں گھوڑے بے حد تھکے ہوئے ہیں اس نے کہا تھا جانا طے ہے دشمن پیچھے لگے ہوئے ہیں میں نے کہا تھا دائیں طرف کی گھاٹی میں ہم چھپ جاتے ہیں اس نے کہا تھا نا ممکن ہے تیروں میں ہم گھرے ہوئے ہیں میں نے کہا تھا غار میں کاٹیں ہجرت رت کی پہلی راتیں اس نے کہا تھا اس کے ...

    مزید پڑھیے

تمام

10 نظم (Nazm)

    نسب نامہ

    مرے اجداد کے گرتے ہوئے حجرے کے محراب خمیدہ میں کسی صندل کے صندوق تبرک میں ہرن کی کھال پر لکھا ہوا شجرہ بھی رکھا ہے کہ جس پر لاجوردی دائروں میں زعفرانی روشنائی سے مرے سارے اقارب کے مقدس نام لکھے ہیں مگر اک دائرہ ایسا بھی ہے جس میں سے لگتا ہے کہ کچھ کھرچا گیا ہے میں ان کھرچے ہوئے ...

    مزید پڑھیے

    خاموشی کے نام

    ہم کہ گفتار کے تاجر ہیں جمال خاموش حرمت لفظ سے آگاہ نہیں بات کرنے کو ہنر جانتے ہیں بولتے بولتے تھکتے ہی نہیں جب تکلم کے تسلسل سے تہی ہوتے ہیں تو لگتا ہے کہ ہے اس گھڑی تشت زبانی خالی ہو گیا خوان معنی خالی ایسے عالم میں ہمیں تیری خاموشی خوش رنگ کشش کرتی ہے تیرا سناٹا ہمیں تیری طرف ...

    مزید پڑھیے

    خلا

    کچھ اس طرح کے خلا میرے روز و شب میں ہے جو فاصلے سے کسی کو نظر نہیں آتے کچھ اس طرح کے تضادات مجھ میں یکجا ہیں جو عقل و فہم کے زیر اثر نہیں آتے مرے قریب جو آتا ہے خوش نہیں رہتا میں سوچتا ہوں کہ تو جتنے فاصلے پر تھا خوشی کے موسم گل رنگ میں وہیں رہتا

    مزید پڑھیے

    اس طرح کی باتوں میں احتیاط کرتے ہیں

    زندگی کی راہوں میں بارہا یہ دیکھا ہے صرف سن نہیں رکھا خود بھی آزمایا ہے تجربوں سے ثابت ہے جو بھی پڑھتے آئے ہیں اس کو ٹھیک پایا ہے اس طرح کی باتوں سے منزلوں سے پہلے ہی ساتھ چھوٹ جاتے ہیں لوگ روٹھ جاتے ہیں یہ تمہیں بتا دوں میں چاہتوں کے رشتے میں پھر گرہ نہیں لگتی لگ بھی جائے تو اس ...

    مزید پڑھیے

    وہی میں ہوں وہی میری کہانی ہے

    وہی قصہ مرے دل کا دل وحشت زدہ پر بادلوں کی طرح اس امڑے ہوئے بے نام موسم کا کہ جو بے نام تو تھا ہی کئی برسوں سے بے معنی بھی ہو کر رہ گیا ہے اور یہ میں نے اس لیے لکھا ہے کیوں کہ میں نے اس کے معنی بے حد معذرت کے ساتھ اب تک کمپیوٹر کے زمانے کے کسی زرخیز تر دل کے لغت میں بھی نہیں دیکھے مرے ...

    مزید پڑھیے

تمام