ہم نے اپنے دل کو پیش روئے جاناں کر دیا
ہم نے اپنے دل کو پیش روئے جاناں کر دیا
آئینہ کو آئینہ دکھلا کے حیراں کر دیا
اپنی پرچھائیں سے کوسوں بھاگتا ہوں ان دنوں
مجھ کو وحشت نے زمانہ سے گریزاں کر دیا
یک جہاں مارا گیا عشق لب جاں بخش میں
تم نے عالم کو غریق آب حیواں کر دیا
ہم نے چند اوراق وصف گل میں لکھے تھے کہیں
نام ان کا شیخ سعدیؔ نے گلستاں کر دیا