کیا کہیں تم سے شب غم ہم پہ کیا کیا ہو گیا
کیا کہیں تم سے شب غم ہم پہ کیا کیا ہو گیا
دل پگھل کر بہہ گیا پانی کلیجا ہو گیا
ذکر چشم مست سے میرا خرابہ ہو گیا
میکدے تک بھی نہیں پہونچا کہ رسوا ہو گیا
موجب خفت ہے عالم میں تجرد پیشگی
میں سبک سار محبت ہو کے ہلکا ہو گیا
جلوۂ اہل صفا ہے تیرہ بختوں پر وبال
دن جہاں نکلا کہ مرغ شپر اندھا ہو گیا
عرش اعظم پر رہے کیونکر نہ مجنوں کا دماغ
لیلۃ المعراج رنگ زلف لیلیٰ ہو گیا
خواب میں بھی ہے تصور شوخ چشموں کا ہمیں
بستر آرام اپنا مرگ چھالا ہو گیا
ان پری زادوں کے کوچے میں تماشے کی ہے بات
جو تماشہ دیکھنے آیا تماشہ ہو گیا