جب سے پیش نظر اس یار کی پیشانی ہے

جب سے پیش نظر اس یار کی پیشانی ہے
صورت آئینہ حاصل مجھے حیرانی ہے


خلعت بادشہی خلعت عریانی ہے
سرد سامان مرا بے سرد سامانی ہے


خاکساری کسے کہتے ہیں کوئی کیا جانے
ہم نے مٹی ترے کوچہ کی بہت چھانی ہے


نغمہ سنجی تری اعجاز سے اے غنچہ دہن
مرغ تصویر ہر اک مرغ گلستانی ہے