دشت میں آوارہ ہم کو شہر میں رسوا کیا

دشت میں آوارہ ہم کو شہر میں رسوا کیا
کیا کہیں تم سے سلوک اس عشق نے کیا کیا کیا


پوچھتے کیا ہیں دم تکبیر تو نے کیا کیا
صورت آئینہ چہرہ آپ کا دیکھا کیا


جب تلک اک جاں دو قالب کا تصور تھا جناب
سم بھی گر تم نے دیا تریاق میں سمجھا کیا


حافظوں میں کیوں نہ ہو محشور مجنوں روز حشر
یاد سبحان الذی بھی اس نے تا لیلیٰ کیا