فدا ہو جس مسیحائے زماں پر
فدا ہو جس مسیحائے زماں پر
دماغ اس کا ہو چوتھے آسماں پر
بتو آگے خدا کے بھی تمہارا
نہ لائیں گے کبھو شکوہ زباں پر
بہار افشاں کی دکھلاوے جو وہ مہ
کریں جگ مگ نہ تارے آسماں پر
ہوئی مٹی خراب اے فیضؔ اس کی
جب آیا کوئی میرے امتحاں پر
اسی کے منہ پہ گرتی ہم نے دیکھا
اڑائی خاک جس نے آسماں پر