ہو گئے ہیں ان دنوں کچھ عقل سے معذور ہم

ہو گئے ہیں ان دنوں کچھ عقل سے معذور ہم
ہے جو نزدیک اپنے اس کو جانتے ہیں دور ہم


جس نے تعلیم انا الحق دی تجھے روز الست
ہیں اسی استاد کے شاگرد اے منصور ہم


عبدیت کے بھیس میں کچھ ہم سے بن سکتی نہیں
وہ گئے دن جن دنوں رکھتے تھے کچھ مقدور ہم


وائے نادانی کہ ہیں انجام سے کیا بے خبر
دو ہی دن کی زندگی پر ہو گئے مغرور ہم


مسئلہ کیا پوچھتے ہو فیضؔ جبر و قدر کا
مدتوں مختار تھے اب ہو گئے مجبور ہم