Meena Kumari Naz

مینا کماری ناز

فلم اداکارہ جنہیں ’ملکہ غم ‘ کہا جاتا ہے ۔ ’ تنہا چاند ‘ ان کا شعری مجموعہ ہے

Film actress known as "The tragedy queen". She published a book of poetry "Tanha Chaand".

مینا کماری ناز کے تمام مواد

12 غزل (Ghazal)

    روح کا چہرہ کتابی ہوگا

    روح کا چہرہ کتابی ہوگا جسم کا رنگ عنابی ہوگا شربتی رنگ سے لکھو آنکھیں اور احساس شرابی ہوگا چشم پیمانہ سے ٹپکا آنسو کوئی بے چارہ ثوابی ہوگا

    مزید پڑھیے

    تمہیں چاہا سبھی نے دل سمجھ کر

    تمہیں چاہا سبھی نے دل سمجھ کر کہ دھوکا کھا گئے منزل سمجھ کر یہ سوچا تھا کہ اب کچھ غم ملیں گے بہت پچھتائے وہ سنگ دل سمجھ کر تمناؤں نے یوں جھٹکا ہے دامن مکان زیست کو منزل سمجھ کر

    مزید پڑھیے

    اداسیوں نے مری آتما کو گھیرا ہے

    اداسیوں نے مری آتما کو گھیرا ہے رو پہلی چاندنی ہے اور گھپ اندھیرا ہے کہیں کہیں کوئی تارہ کہیں کہیں جگنو جو میری رات تھی وہ آپ کا سویرا ہے قدم قدم پہ بگولوں کو توڑتے جائیں ادھر سے گزرے گا تو راستہ یہ تیرا ہے افق کے پار جو دیکھی ہے روشنی تم نے وہ روشنی ہے خدا جانے یا اندھیرا ...

    مزید پڑھیے

    اب آنکھ کھلی اب ہوش آیا

    اب آنکھ کھلی اب ہوش آیا بہکا سا جب گل پوش آیا پتا پتا اب نکھرا ہے دل سا جو پردہ پوش آیا آنکھوں کو دیکھتے ہی بولے بن پئے کوئی مدہوش آیا اپنا ہی سودا کر بیٹھے تم سا جو صبا فروش آیا

    مزید پڑھیے

    عیادت ہوتی جاتی ہے عبادت ہوتی جاتی ہے

    عیادت ہوتی جاتی ہے عبادت ہوتی جاتی ہے میرے مرنے کی دیکھو سب کو عادت ہوتی جاتی ہے نمی سی آنکھ میں اور ہونٹ بھی بھیگے ہوئے سے ہیں یہ بھیگا پن ہی دیکھو مسکراہٹ ہوتی جاتی ہے تیرے قدموں کی آہٹ کو ہے دل یہ ڈھونڈھتا ہر دم ہر اک آواز پہ اک تھرتھراہٹ ہوتی جاتی ہے یہ کیسی یاس ہے رونے کی ...

    مزید پڑھیے

تمام

13 نظم (Nazm)

    اے میرے اجنبی

    تو چلا جائے گا وقت آنسو ہی آنسو میں ڈھل جائے گا وقت آہوں میں میری بدل جائے گا وقت یادوں سے تیری بہل جائے گا جسم لاوے کی صورت پگھل جائے گا ذہن پارے کی صورت پھسل جائے گا تو چلا جائے گا اے میرے اجنبی

    مزید پڑھیے

    جلتی بجھتی سی روشنی کے پرے

    جلتی بجھتی سی روشنی کے پرے ہم نے اک رات ایسی پائی تھی روح کو دانت سے جس نے کاٹا جس کی ہر ادا مسکرائی تھی جس کی بھنچی ہوئی ہتھیلی سے سارے آتش فشاں ابل اٹھے جس کے ہونٹوں کی سرخی چھوتے ہی آگ سی تمام جنگلوں میں لگی راکھ ماتھے پہ چٹکی بھر کے رکھی خون کی جیوں بندیا لگائی ہو کس قدر جوان ...

    مزید پڑھیے

    دن گزرتا نظر نہیں آتا

    دن گزرتا نظر نہیں آتا رات کاٹے نہیں کٹتی رات اور دن کے اس تسلسل میں عمر بانٹے سے بھی نہیں بٹتی تیری آواز میں تارے سے کیوں چمکنے لگے کس کی آنکھوں کے ترنم کو چرا لائی ہے کس کی آغوش کی ٹھنڈک پہ ڈاکا ڈالا ہے کس کی بانہوں سے تو شبنم کو اٹھا لائی ہے دن بہرحال بہر طور گزر جاتا ہے شام آتی ...

    مزید پڑھیے

    کھڑکی

    یہ کھڑکی میری دوست میری رفیق میری رازدار میرے دل کی سب دھڑکنوں کی امیں مسرت کے لمحات اور بے کراں غم کے سائے سب اترے میری زندگی میں میری سرد تنہائیوں میں اسی کے سہارے یہیں میں نے سر رکھ کر اکثر بنے ان گنت خواب ادھورے مکمل حسین مرتب کئے خاکے مستقبل نارسا کے یہیں سے کبھی مڑ کے ...

    مزید پڑھیے

    یہ نور کیسا ہے

    راکھ کا سارنگ پہنے برف کی لاش ہے لادے کا سا بدن پہنے گونگی چاہت ہے رسوائی کا کفن پہنے ہر ایک قطرہ مقدس ہے میلے آنسو کا ایک ہجوم اپاہج ہے آب کوثر پر یہ کیسا شور ہے جو بے آواز پھیلا ہے رو پہلی چھاؤں میں بد نامیوں کا ڈیرا ہے یہ کیسی جنت ہے جو چونک چونک جاتی ہے ایک انتظار مجسم کا نام ...

    مزید پڑھیے

تمام