تمہیں چاہا سبھی نے دل سمجھ کر

تمہیں چاہا سبھی نے دل سمجھ کر
کہ دھوکا کھا گئے منزل سمجھ کر


یہ سوچا تھا کہ اب کچھ غم ملیں گے
بہت پچھتائے وہ سنگ دل سمجھ کر


تمناؤں نے یوں جھٹکا ہے دامن
مکان زیست کو منزل سمجھ کر