م۔ش۔نجمی کی غزل

    پوچھتے ہو کیا کہ کیا ہے آدمی

    پوچھتے ہو کیا کہ کیا ہے آدمی آب مٹی ہے ہوا ہے آدمی فطرتاً تو ہے بڑا ہی دل‌ جلا پر مزاجاً دل بجھا ہے آدمی گتھیاں تقدیر کی سلجھائے کیا خود ہی جب الجھا ہوا ہے آدمی دور رہنے ہی میں سمجھو عافیت یہ نہ بھولو سر پھرا ہے آدمی ابتدا سے عمر کے انجام تک جنگ اپنی لڑ رہا ہے آدمی کر رہا ہے ...

    مزید پڑھیے

    ہم اپنی منزلوں کا آپ ہی نقشہ بناتے ہیں

    ہم اپنی منزلوں کا آپ ہی نقشہ بناتے ہیں چٹانیں کاٹ کر اپنے لیے رستہ بناتے ہیں ریا کاری ہمارے سامنے کیا سر اٹھائے گی جو سچ کو سچ بتائے ہم وہ آئینہ بناتے ہیں الگ نقشہ بناتا ہے ادھر اک آسماں والا زمیں والے زمیں پر جب کوئی نقشہ بناتے ہیں نہ ہو دیوار کی بندش نہ سرحد کی لکیریں ہوں ہم ...

    مزید پڑھیے

    دن بہ دن نادان بنتا جائے ہے

    دن بہ دن نادان بنتا جائے ہے آدمی حیوان بنتا جائے ہے جھوٹ مکاری تصنع مصلحت خود غرض انسان بنتا جائے ہے عارضی خوشیوں کا تکمیل عمل خون کا سیلان بنتا جائے ہے خواہشوں کی گھن گرج کے درمیان ذہن ریگستان بنتا جائے ہے پھول کی دیدہ دلیری کا عذاب خار پر بہتان بنتا جائے ہے ہر نظر یہ آدمی ...

    مزید پڑھیے

    بڑی بد نامیاں ہوں گی سر بازار ملنے سے

    بڑی بد نامیاں ہوں گی سر بازار ملنے سے دلوں کے بھید کھلتے ہیں نظر کے تار ملنے سے ہے دیوانہ تو دیوانہ درک کیا اس کو جذبوں کا ملے گا کیا تمہیں اس سے دیوانہ وار ملنے سے کوئی مقصد کوئی مطلب رہے تو بات بھی کچھ ہو نتیجہ ورنہ کیا ہوگا یوں ہی بے کار ملنے سے ملاقاتیں نئی کچھ رنگ بھرتی ہیں ...

    مزید پڑھیے

    ہے کتنی خود غرض مکار دنیا ہم نے دیکھا ہے

    ہے کتنی خود غرض مکار دنیا ہم نے دیکھا ہے خود اپنی ہی تباہی کا تماشہ ہم نے دیکھا ہے ہمارے گھر جلے ہیں خود ہمارے ہی چراغوں سے کھلی آنکھوں سے اپنوں کا ارادہ ہم نے دیکھا ہے یہ سجدہ ریز تک ہوتی ہے دنیا جبر کے آگے کہیں ڈر سے بجا لاتی ہے مجرا ہم نے دیکھا ہے قیامت خیز طوفانوں میں برساتی ...

    مزید پڑھیے

    جاگنا راتوں میں یادوں کے بھنور میں ڈوبنا

    جاگنا راتوں میں یادوں کے بھنور میں ڈوبنا وہ دل مضطر کا سیل چشم تر میں ڈوبنا پہلے اپنے نفس کی مسمار کرنی ہے فصیل اور اس کے بعد ہے کار دگر میں ڈوبنا بھر لیا آنکھوں میں دریاؤں کو دریا کے لیے سخت مشکل ہو گیا پانی کے گھر میں ڈوبنا اور ہوں گے وہ جنہیں دنیا کا ہو خوف و ہراس ہم نے سیکھا ...

    مزید پڑھیے

    صبح دم کون یہ نیندوں سے جگا دیتا ہے

    صبح دم کون یہ نیندوں سے جگا دیتا ہے رات کو لوری سناتا ہے سلا دیتا ہے بات بدلے کی یہاں تک اسے لے آئی ہے وہ مری یاد کو سولی پہ چڑھا دیتا ہے اس کی نیت میں ہے کیا وہ تو خدا ہی جانے میرا دشمن مجھے جینے کی دعا دیتا ہے جادۂ عشق میں درکار ہے اخلاص عمل ذرہ ذرہ جہاں پیغام وفا دیتا ہے ابر ...

    مزید پڑھیے

    زمیں تھی تنگ کھلا آسمان کیا رکھتے

    زمیں تھی تنگ کھلا آسمان کیا رکھتے ہم اپنے سر پہ کوئی سائبان کیا رکھتے بہت طویل تھا انجان چاہتوں کا سفر کہ چل رہے تھے مسلسل تکان کیا رکھتے جہاں بھی چھاؤں نظر آ گئی پڑاؤ کیا اک عمر دشت میں گزری مکان کیا رکھتے نہ ہوتا خون ہمارا جو رنگ و نکہت میں یہ پھول چہرے بھلا آن بان کیا ...

    مزید پڑھیے

    وحشت کا رنگ برسر پیکار پھر ہوا

    وحشت کا رنگ برسر پیکار پھر ہوا اک عکس آئنے سے نمودار پھر ہوا درپیش ایک چشمۂ زہراب تھا مگر دل تشنہ لب تھا اس لیے مے خوار پھر ہوا پھر ہنس پڑا نظر میں گل پیرہن کا چاک موسم جنوں کا باعث آزار پھر ہوا سورج نے وہ سلوک کیا زندگی کے ساتھ انسان تیرگی کا پرستار پھر ہوا مجھ میں سمٹ کے رہ ...

    مزید پڑھیے

    مٹا دیتے ہیں ہستی کو ریا کاری نہیں کرتے

    مٹا دیتے ہیں ہستی کو ریا کاری نہیں کرتے ترے بندے دکھاوے کی وفاداری نہیں کرتے ہمالہ کی بلندی بھی قدم بوسی کو گر اترے زمیں والے زمیں کے ساتھ غداری نہیں کرتے ہماری تشنہ کامی خود ہوا دیتی ہے شدت کو عجب بادل ہیں پیاسوں کی طرف داری نہیں کرتے بنا رکھا ہے کانٹوں پر گھروندا گل نے ...

    مزید پڑھیے