جاگنا راتوں میں یادوں کے بھنور میں ڈوبنا

جاگنا راتوں میں یادوں کے بھنور میں ڈوبنا
وہ دل مضطر کا سیل چشم تر میں ڈوبنا


پہلے اپنے نفس کی مسمار کرنی ہے فصیل
اور اس کے بعد ہے کار دگر میں ڈوبنا


بھر لیا آنکھوں میں دریاؤں کو دریا کے لیے
سخت مشکل ہو گیا پانی کے گھر میں ڈوبنا


اور ہوں گے وہ جنہیں دنیا کا ہو خوف و ہراس
ہم نے سیکھا ہی نہیں دنیا کے ڈر میں ڈوبنا


آبلہ پائی کا موسم راس آ جاتا اگر
کام آ جاتا مرا گرد سفر میں ڈوبنا


ڈوب کے ابھرے ہیں ہم دنیا کے ہر مجھدھار سے
اب رہا باقی فقط نقد و نظر میں ڈوبنا


دوسروں کی عیب جوئی جس قدر آسان ہے
اتنا ہی دشوار ہے خود کی نظر میں ڈوبنا


جانے کس منزل پہ لے جائے تجھے جذب جنوں
ہر قدم نجمیؔ ترا نقد و نظر میں ڈوبنا