مٹا دیتے ہیں ہستی کو ریا کاری نہیں کرتے
مٹا دیتے ہیں ہستی کو ریا کاری نہیں کرتے
ترے بندے دکھاوے کی وفاداری نہیں کرتے
ہمالہ کی بلندی بھی قدم بوسی کو گر اترے
زمیں والے زمیں کے ساتھ غداری نہیں کرتے
ہماری تشنہ کامی خود ہوا دیتی ہے شدت کو
عجب بادل ہیں پیاسوں کی طرف داری نہیں کرتے
بنا رکھا ہے کانٹوں پر گھروندا گل نے خوشبو کا
بلا مقصد تو بھنورے ناز برداری نہیں کرتے
جھلستی دھوپ کو ہم اوڑھ لیتے ہیں کبھی سر پر
کبھی ہم جسم کے سائے سے بھی یاری نہیں کرتے
منافق ہو اگر موسم بدل جاتے ہیں چہرے تک
خوشامد کرنے والے بھی طرف داری نہیں کرتے
کشاکش میں زمانے کی بسر اوقات مشکل تھی
تو کیا کرتے اگر نجمیؔ اداکاری نہیں کرتے