زمیں تھی تنگ کھلا آسمان کیا رکھتے
زمیں تھی تنگ کھلا آسمان کیا رکھتے
ہم اپنے سر پہ کوئی سائبان کیا رکھتے
بہت طویل تھا انجان چاہتوں کا سفر
کہ چل رہے تھے مسلسل تکان کیا رکھتے
جہاں بھی چھاؤں نظر آ گئی پڑاؤ کیا
اک عمر دشت میں گزری مکان کیا رکھتے
نہ ہوتا خون ہمارا جو رنگ و نکہت میں
یہ پھول چہرے بھلا آن بان کیا رکھتے
بھنا رہے ہیں جو اسلاف کے اصولوں کو
وہ اپنا نام و نسب خاندان کیا رکھتے
جھلس گئے تھے تمازت سے بال و پر جن کے
وہ بد نصیب پرندے اڑان کیا رکھتے