بڑی بد نامیاں ہوں گی سر بازار ملنے سے
بڑی بد نامیاں ہوں گی سر بازار ملنے سے
دلوں کے بھید کھلتے ہیں نظر کے تار ملنے سے
ہے دیوانہ تو دیوانہ درک کیا اس کو جذبوں کا
ملے گا کیا تمہیں اس سے دیوانہ وار ملنے سے
کوئی مقصد کوئی مطلب رہے تو بات بھی کچھ ہو
نتیجہ ورنہ کیا ہوگا یوں ہی بے کار ملنے سے
ملاقاتیں نئی کچھ رنگ بھرتی ہیں بڑے دل کش
کہانی آگے بڑھتی ہے نئے کردار ملنے سے
تصور میں اکیلے مل کے دیکھو گے تو جانو گے
نہ ملنا کتنا بہتر تھا سر بازار ملنے سے
کبھی حد سے زیادہ بڑھ بھی جاتے ہیں ستم گر یہ
مسائل حل بھی ہو جاتے ہیں اکثر یار ملنے سے
ہمیں ہم ایک ہیں دوجا نہیں کوئی تو بتلاؤ
ہمیں روکے گی کیا دنیا دیوانہ وار ملنے سے