م۔ش۔نجمی کے تمام مواد

10 غزل (Ghazal)

    پوچھتے ہو کیا کہ کیا ہے آدمی

    پوچھتے ہو کیا کہ کیا ہے آدمی آب مٹی ہے ہوا ہے آدمی فطرتاً تو ہے بڑا ہی دل‌ جلا پر مزاجاً دل بجھا ہے آدمی گتھیاں تقدیر کی سلجھائے کیا خود ہی جب الجھا ہوا ہے آدمی دور رہنے ہی میں سمجھو عافیت یہ نہ بھولو سر پھرا ہے آدمی ابتدا سے عمر کے انجام تک جنگ اپنی لڑ رہا ہے آدمی کر رہا ہے ...

    مزید پڑھیے

    ہم اپنی منزلوں کا آپ ہی نقشہ بناتے ہیں

    ہم اپنی منزلوں کا آپ ہی نقشہ بناتے ہیں چٹانیں کاٹ کر اپنے لیے رستہ بناتے ہیں ریا کاری ہمارے سامنے کیا سر اٹھائے گی جو سچ کو سچ بتائے ہم وہ آئینہ بناتے ہیں الگ نقشہ بناتا ہے ادھر اک آسماں والا زمیں والے زمیں پر جب کوئی نقشہ بناتے ہیں نہ ہو دیوار کی بندش نہ سرحد کی لکیریں ہوں ہم ...

    مزید پڑھیے

    دن بہ دن نادان بنتا جائے ہے

    دن بہ دن نادان بنتا جائے ہے آدمی حیوان بنتا جائے ہے جھوٹ مکاری تصنع مصلحت خود غرض انسان بنتا جائے ہے عارضی خوشیوں کا تکمیل عمل خون کا سیلان بنتا جائے ہے خواہشوں کی گھن گرج کے درمیان ذہن ریگستان بنتا جائے ہے پھول کی دیدہ دلیری کا عذاب خار پر بہتان بنتا جائے ہے ہر نظر یہ آدمی ...

    مزید پڑھیے

    بڑی بد نامیاں ہوں گی سر بازار ملنے سے

    بڑی بد نامیاں ہوں گی سر بازار ملنے سے دلوں کے بھید کھلتے ہیں نظر کے تار ملنے سے ہے دیوانہ تو دیوانہ درک کیا اس کو جذبوں کا ملے گا کیا تمہیں اس سے دیوانہ وار ملنے سے کوئی مقصد کوئی مطلب رہے تو بات بھی کچھ ہو نتیجہ ورنہ کیا ہوگا یوں ہی بے کار ملنے سے ملاقاتیں نئی کچھ رنگ بھرتی ہیں ...

    مزید پڑھیے

    ہے کتنی خود غرض مکار دنیا ہم نے دیکھا ہے

    ہے کتنی خود غرض مکار دنیا ہم نے دیکھا ہے خود اپنی ہی تباہی کا تماشہ ہم نے دیکھا ہے ہمارے گھر جلے ہیں خود ہمارے ہی چراغوں سے کھلی آنکھوں سے اپنوں کا ارادہ ہم نے دیکھا ہے یہ سجدہ ریز تک ہوتی ہے دنیا جبر کے آگے کہیں ڈر سے بجا لاتی ہے مجرا ہم نے دیکھا ہے قیامت خیز طوفانوں میں برساتی ...

    مزید پڑھیے

تمام