صبح دم کون یہ نیندوں سے جگا دیتا ہے
صبح دم کون یہ نیندوں سے جگا دیتا ہے
رات کو لوری سناتا ہے سلا دیتا ہے
بات بدلے کی یہاں تک اسے لے آئی ہے
وہ مری یاد کو سولی پہ چڑھا دیتا ہے
اس کی نیت میں ہے کیا وہ تو خدا ہی جانے
میرا دشمن مجھے جینے کی دعا دیتا ہے
جادۂ عشق میں درکار ہے اخلاص عمل
ذرہ ذرہ جہاں پیغام وفا دیتا ہے
ابر کا ٹکڑا ہی سر پر مرے وہ بھجواتا
ریگ زاروں میں جو سبزے کو اگا دیتا ہے
مشغلا اس کا ابھی تک ہے وہی سنتے ہیں
ریت پہ لکھ کے مرا نام مٹا دیتا ہے
ہم سمجھتے ہیں کمی بیشی توجہ کی تری
کون ہے درد بڑھاتا ہے گھٹا دیتا ہے
حسب توفیق عمل بھی ہے ضروری نجمیؔ
کامیابی تو بہ ہر حال خدا دیتا ہے