ہم اپنی منزلوں کا آپ ہی نقشہ بناتے ہیں
ہم اپنی منزلوں کا آپ ہی نقشہ بناتے ہیں
چٹانیں کاٹ کر اپنے لیے رستہ بناتے ہیں
ریا کاری ہمارے سامنے کیا سر اٹھائے گی
جو سچ کو سچ بتائے ہم وہ آئینہ بناتے ہیں
الگ نقشہ بناتا ہے ادھر اک آسماں والا
زمیں والے زمیں پر جب کوئی نقشہ بناتے ہیں
نہ ہو دیوار کی بندش نہ سرحد کی لکیریں ہوں
ہم اپنی کاوشوں سے ایسی ہی دنیا بناتے ہیں
رکاوٹ کو رکاوٹ کب سمجھتے ہیں ہم اہل دل
ہمارے واسطے حالات خود رستہ بناتے ہیں
اسی اک بات پر نالاں ہیں ہم سے لوگ بستی کے
جنہیں کہتے ہیں ہم اپنا انہیں اپنا بناتے ہیں
ہم ایسے پیڑ ہیں نجمیؔ جھلستے ریگ زاروں میں
جو تپتی دھوپ سہہ کر بھی گھنا سایہ بناتے ہیں