Mazhar Imam

مظہر امام

ممتاز ترین جدید شاعروں میں معروٖف۔ دوردرشن سے وابستہ

One of the most prominent modern poets. Was associated with Doordarshan

مظہر امام کی غزل

    کوئی سنے نہ سنے عرض حال کرتا جا

    کوئی سنے نہ سنے عرض حال کرتا جا نہ رک جواب کی خاطر سوال کرتا جا سمندروں کو ہوا میں اچھال دے اک بار تو با ہنر ہے تو یہ بھی کمال کرتا جا بدل دے ہجر کی ساعت کو وصل لمحوں میں بنا کے کام کو آساں محال کرتا جا تو بے مثال اگر ہے تو مجھ میں ظاہر ہو مجھے بھی اپنی طرح بے مثال کرتا جا قریب آ ...

    مزید پڑھیے

    دل اکیلا ہے بہت لالۂ صحرا کی طرح

    دل اکیلا ہے بہت لالۂ صحرا کی طرح تم نے بھی چھوڑ دیا ہے مجھے دنیا کی طرح یوں جدا مجھ سے نہ ہو عہد گزشتہ کی طرح دل کے نزدیک رہو وعدۂ فردا کی طرح تم ہوا ہو تو بکھیرو مجھے ساحل ساحل موج سے ہو تو بہا دو مجھے دریا کی طرح پاس رہتے ہو تو آتا ہے جدائی کا خیال تم مرے دل میں ہو اندیشۂ فردا کی ...

    مزید پڑھیے

    کس سمت جا رہا ہے زمانہ کہا نہ جائے

    کس سمت جا رہا ہے زمانہ کہا نہ جائے اکتا گئے ہیں لوگ فسانہ کہا نہ جائے اپنا مکاں اجاڑ کے صحراؤں کی طرف وہ شخص کیوں ہوا ہے روانہ کہا نہ جائے لمحوں کی طرح گزری ہیں صدیاں تو بارہا اک پل بنا ہے کیسے زمانہ کہا نہ جائے شعلے بنے ہیں لفظ تو کانٹا ہوئی زباں اب کیا کریں جو تیرا فسانہ کہا ...

    مزید پڑھیے

    رخصت شام ہے اور وعدے کا سایہ بھی نہیں

    رخصت شام ہے اور وعدے کا سایہ بھی نہیں اب تکلف نہ کروں جا کے تقاضا ہو جاؤں کب سے ہوں ماہی بے آب زمانے کی طرح کوئی نیکی ہو ترے پاس تو دریا ہو جاؤں کتنے پیچیدہ مسائل کی تھکن ہے مجھ میں اک ذرا سوچ لوں تجھ کو تر و تازہ ہو جاؤں کتنے پہلو ہیں کئی رنگ چھپے ہیں مجھ میں ابھی ایسا ہوں جو تو ...

    مزید پڑھیے

    جو زیاں دل کا ہوا اس کا ازالہ ہو جاؤں

    جو زیاں دل کا ہوا اس کا ازالہ ہو جاؤں اب تو اظہار محبت کا سلیقہ ہو جاؤں کھینچنا ہے ترے دامن کو حریفانہ مجھے اک ذرا رک مرے یوسف میں زلیخا ہو جاؤں میں ستارے کی طرح وقت پہ ہوتا ہوں غروب شب ترا ساتھ رہا اب میں سویرا ہو جاؤں تیرے بیمار کا ہوتا ہے مرض اور سوا تو جو بیمار ہو میرا تو میں ...

    مزید پڑھیے

    چپکے چپکے یہ کام کرتا جا

    چپکے چپکے یہ کام کرتا جا کام سب کا تمام کرتا جا ہم کو بد نام کر زمانے میں کچھ زمانے میں نام کرتا جا یاد کی شاہراہ سیمیں پر اے سمن بر خرام کرتا جا اے کہ تیرا مزاج شبنم سا برگ دل پر قیام کرتا جا اشک آنکھوں میں لے کے رخصت ہو میرا مرنا حرام کرتا جا بستیوں کا اجڑنا بسنا کیا بے جھجک ...

    مزید پڑھیے

    مزہ لمس کا بے زبانی میں تھا

    مزہ لمس کا بے زبانی میں تھا عجب ذائقہ خوش گمانی میں تھا مری وسعتوں کو کہاں جانتا وہ محو اپنی ہی بے کرانی میں تھا مٹاتے رہے اولیں یاد کو کہ جو نقش تھا نقش ثانی میں تھا بہت دیر تک لوگ ساحل پہ تھے سفینہ مرا جب روانی میں تھا ہمیں سے نہ آداب برتے گئے سلیقہ بہت میزبانی میں تھا مئے ...

    مزید پڑھیے

    خون اوڑھے ہوئے ہر گھر کا سراپا نکلا

    خون اوڑھے ہوئے ہر گھر کا سراپا نکلا آپ کے شہر کا انداز نرالا نکلا چھو کے اک شخص کو پرکھا تو ملمع نکلا اس کو میں کیسا سمجھتا تھا وہ کیسا نکلا روح ویران ملی رنگ پریدہ نکلا اس کو نزدیک سے دیکھا تو زمانہ نکلا سچ کے صحرا میں انہیں ڈھونڈ کے تھک ہار گئے جھوٹ کے شہر میں یاروں کا بسیرا ...

    مزید پڑھیے

    شکریہ تیرا کہ غم کا حوصلہ رہنے دیا

    شکریہ تیرا کہ غم کا حوصلہ رہنے دیا بے اثر کر دی دعا دست دعا رہنے دیا منصفی کا شور محشر گونجتا رہنے دیا سب دلیلوں کو سنا اور فیصلہ رہنے دیا اے خدا ممنون ہوں تیرا کہ میرے پھول میں تو نے خوشبوئے ہوس رنگ وفا رہنے دیا کچھ اشارے اتنے مبہم اتنے واضح اتنے شوخ داستاں ساری سنا دی مدعا ...

    مزید پڑھیے

    نئی بارش کی رم جھم میں لباس غم تو بدلے گا

    نئی بارش کی رم جھم میں لباس غم تو بدلے گا وہی رسم چمن ہوگی مگر موسم تو بدلے گا وہ قہر شاہ خاور ہو کہ زہر باد صرصر ہو کسی صورت مزاج نازک شبنم تو بدلے گا مسیحاؤں نے کچھ تازہ دوائیں لا کے رکھی ہیں نئے زخم آئیں گے اب بھی مگر مرہم تو بدلے گا کفن ریشم کے مقتولوں کو اب پہنائے جائیں ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 3 سے 5