کوئی سنے نہ سنے عرض حال کرتا جا
کوئی سنے نہ سنے عرض حال کرتا جا نہ رک جواب کی خاطر سوال کرتا جا سمندروں کو ہوا میں اچھال دے اک بار تو با ہنر ہے تو یہ بھی کمال کرتا جا بدل دے ہجر کی ساعت کو وصل لمحوں میں بنا کے کام کو آساں محال کرتا جا تو بے مثال اگر ہے تو مجھ میں ظاہر ہو مجھے بھی اپنی طرح بے مثال کرتا جا قریب آ ...