دل اکیلا ہے بہت لالۂ صحرا کی طرح

دل اکیلا ہے بہت لالۂ صحرا کی طرح
تم نے بھی چھوڑ دیا ہے مجھے دنیا کی طرح


یوں جدا مجھ سے نہ ہو عہد گزشتہ کی طرح
دل کے نزدیک رہو وعدۂ فردا کی طرح


تم ہوا ہو تو بکھیرو مجھے ساحل ساحل
موج سے ہو تو بہا دو مجھے دریا کی طرح


پاس رہتے ہو تو آتا ہے جدائی کا خیال
تم مرے دل میں ہو اندیشۂ فردا کی طرح


بیچ میں کچھ تو رہ رسم تکلف رکھو
اجنبی یوں نہیں ملتے ہیں شناسا کی طرح