جو زیاں دل کا ہوا اس کا ازالہ ہو جاؤں
جو زیاں دل کا ہوا اس کا ازالہ ہو جاؤں
اب تو اظہار محبت کا سلیقہ ہو جاؤں
کھینچنا ہے ترے دامن کو حریفانہ مجھے
اک ذرا رک مرے یوسف میں زلیخا ہو جاؤں
میں ستارے کی طرح وقت پہ ہوتا ہوں غروب
شب ترا ساتھ رہا اب میں سویرا ہو جاؤں
تیرے بیمار کا ہوتا ہے مرض اور سوا
تو جو بیمار ہو میرا تو میں اچھا ہو جاؤں
میں شناور ہوں زمانے کے بھرے دریا کا
پار اترنا ہو تجھے گر تو سفینہ ہو جاؤں
اتنا بے درد ابھی دل تو نہیں ہے میرا
ساتھ کیوں چھوڑ دوں اپنا میں زمانہ ہو جاؤں
وقت رخصت تو چمک اپنی دکھانی ہے مجھے
چاند بننے سے رہا صبح کا تارا ہو جاؤں