Mazhar Imam

مظہر امام

ممتاز ترین جدید شاعروں میں معروٖف۔ دوردرشن سے وابستہ

One of the most prominent modern poets. Was associated with Doordarshan

مظہر امام کی غزل

    میں جانتا ہوں وہ نزدیک او دور میرا تھا

    میں جانتا ہوں وہ نزدیک او دور میرا تھا بچھڑ گیا جو میں اس سے قصور میرا تھا جو پاؤں آئے تھے گھر تک مرے وہ اس کے تھے وہ دل بڑھا تھا جو اس کے حضور میرا تھا بڑا غرور تھا دونوں کو ہم نوائی پر نگاہ اس کی تھی لیکن سرور میرا تھا وہ آنکھ میری تھی جو اس کے سامنے نم تھی خموش وہ تھا کہ یوم ...

    مزید پڑھیے

    عجیب واقعہ تھا اس کو اپنے گھر لانا

    عجیب واقعہ تھا اس کو اپنے گھر لانا کبھی چراغ اٹھانا کبھی قمر لانا بیان عجز میں الفاظ معتبر لانا بڑا کمال دعاؤں میں ہے اثر لانا بہت ہے آج تمنا اڑان بھرنے کی قفس سے جا کے ہمارے شکستہ پر لانا تھکے ہوئے ہیں سبھی پائمال راہوں پر کہیں سے ڈھونڈ کے پھر تازہ رہگزر لانا وہ شوخ رنگ کا ...

    مزید پڑھیے

    بھرا ہوا تری یادوں کا جام کتنا تھا

    بھرا ہوا تری یادوں کا جام کتنا تھا سحر کے وقت تقاضائے شام کتنا تھا رخ زوال پہ رنگ دوام کتنا تھا کہ گھٹ کے بھی مرا ماہ تمام کتنا تھا تھا تیرے ناز کو کتنا مری انا کا خیال مرا غرور بھی تیرا غلام کتنا تھا جو پو پھٹی تو ہر اک داستاں تمام ہوئی عجب کہ ان کے لیے اہتمام کتنا تھا انہیں ...

    مزید پڑھیے

    زلزلے سب دل کے اندر ہو گئے

    زلزلے سب دل کے اندر ہو گئے حادثے رومان پرور ہو گئے کشتیوں کی قیمتیں بڑھنے لگیں جتنے صحرا تھے سمندر ہو گئے دھوپ میں پہلے پگھل جاتے تھے لوگ اب کے کیا گزری کہ پتھر ہو گئے وہ نگاہیں کیا پھریں ہم سے کہ ہم اپنی ہی آنکھوں میں کم تر ہو گئے تم کہ ہر دل میں تمہارا گھر ہوا ہم کہ اپنے گھر ...

    مزید پڑھیے

    اس کو یہ ضد ہے کہ رہ جائے بدن سر نہ رہے

    اس کو یہ ضد ہے کہ رہ جائے بدن سر نہ رہے گھومتی جائے زمیں اور کوئی محور نہ رہے اس نے ہمت جو بڑھائی بھی تو رکھا یہ لحاظ کوئی بزدل نہ بنے کوئی دلاور نہ رہے اس نے اس طرح اتاری مرے غم کی تصویر رنگ محفوظ تو رہ جائیں پہ منظر نہ رہے اس نے کس ناز سے بخشی ہے مجھے جائے پناہ یوں کہ دیوار ...

    مزید پڑھیے

    میرا فن میری غزل تیرا اشارا تو نہیں

    میرا فن میری غزل تیرا اشارا تو نہیں حسن تیرا اسی پردے میں خود آرا تو نہیں دم ظلمت بھی جو آنکھوں میں ہے تصویر سحر ہاتھ کچھ اس میں بھی اے دوست تمہارا تو نہیں کاکل وقت میں سلجھاؤ نظر آتا ہے آپ نے زلف پریشاں کو سنوارا تو نہیں میرے احساس کی وادی میں شفق سی جھلکی مجھ کو دوشیزۂ فطرت ...

    مزید پڑھیے

    اپنے رستے ہوئے زخموں کی قبا لایا ہوں

    اپنے رستے ہوئے زخموں کی قبا لایا ہوں زندگی میری طرف دیکھ کہ میں آیا ہوں کسی سنسان جزیرے سے پکارو مجھ کو میں صداؤں کے سمندر میں نکل آیا ہوں کام آئی ہے وہی چھاؤں گھنی بھی جو نہ تھی وقت کی دھوپ میں جس وقت میں کمھلایا ہوں خیریت پوچھتے ہیں لوگ بڑے طنز کے ساتھ جرم بس یہ ہے کہ اک شوخ ...

    مزید پڑھیے

    ترا خیال سر شام غم سنورتا ہوا

    ترا خیال سر شام غم سنورتا ہوا بہت قریب سے گزرا سلام کرتا ہوا جھجک رہا تھا وہ مجھ سے نظر ملاتے ہوئے کہ میں بھی تھا اسی خاکے میں رنگ بھرتا ہوا میں غرق ہونے ہی والا تھا جب تو اک تنکا بھنور سے مجھ کو دکھائی دیا ابھرتا ہوا ملا وہ پانچ ستاروں کی رقص گاہوں میں زمانے بھر سے پشیمان خود ...

    مزید پڑھیے

    جو اب تک ناؤ یہ ڈوبی نہیں ہے

    جو اب تک ناؤ یہ ڈوبی نہیں ہے تو ساحل پر بھی بے چینی نہیں ہے چلو ہم بھی وفا سے باز آئے محبت کوئی مجبوری نہیں ہے ذرا تاریکیوں کو بھی پکارو کہ اتنی روشنی اچھی نہیں ہے ابھی سے کانپتا ہے شمع کا دل ابھی اس نے نقاب الٹی نہیں ہے رہا کرتی ہے حسرت بن کے دل میں متاع آرزو لٹتی نہیں ہے حیات ...

    مزید پڑھیے

    جیسے کسی طوفان کا خدشہ بھی نہیں تھا

    جیسے کسی طوفان کا خدشہ بھی نہیں تھا کیا لوگ تھے اندیشۂ فردا بھی نہیں تھا وہ کیسے مسافر تھے کہ بے زاد سفر تھے سینے پہ کوئی بار تمنا بھی نہیں تھا کیوں لوگ مزاروں پہ دعا مانگ رہے تھے مجھ پر کسی آسیب کا سایہ بھی نہیں تھا کس باغ طلسمات میں گم ہو گئیں آنکھیں میں نے تری جانب ابھی ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 5