Mazhar Imam

مظہر امام

ممتاز ترین جدید شاعروں میں معروٖف۔ دوردرشن سے وابستہ

One of the most prominent modern poets. Was associated with Doordarshan

مظہر امام کی غزل

    نہ ہم نوا مرے ذوق خرام کا نکلا

    نہ ہم نوا مرے ذوق خرام کا نکلا یہ راستہ بھی اسی نرم گام کا نکلا نئے گلوں کی صدائے شگفت تیز ہوئی ہوا کے لمس سے رشتہ کلام کا نکلا مصوری نہ سہی کام آئی بے ہنری کوئی بہانہ تو ان سے سلام کا نکلا تلاش رزق میں نکلے تھے مہر صبح لیے عقب سے پہلا ستارہ بھی شام کا نکلا یہاں بھی دھوپ چلی آئی ...

    مزید پڑھیے

    حرف دل نارسا ہے ترے شہر میں

    حرف دل نارسا ہے ترے شہر میں ہر صدا بے صدا ہے ترے شہر میں کوئی خوشبو کی جھنکار سنتا نہیں کون سا گل کھلا ہے ترے شہر میں کب دھنک سو گئی کب ستارے بجھے کوئی کب سوچتا ہے ترے شہر میں اب چناروں پہ بھی آگ کھلنے لگی زخم لو دے رہا ہے ترے شہر میں جتنے پتے تھے سب ہی ہوا دے گئے کس پہ تکیہ رہا ...

    مزید پڑھیے

    تجھے بھی جانچتے اپنا بھی امتحاں کرتے

    تجھے بھی جانچتے اپنا بھی امتحاں کرتے کہیں چراغ جلاتے کہیں دھواں کرتے کئی تھے جلوۂ نایاب تجھ سے پہلے بھی کس آسرے پہ ترا نقش جاوداں کرتے سفینہ ڈوب رہا تھا تو کیوں نہ یاد آیا تری طلب ترے ارماں کو بادباں کرتے محبتیں بھی تری ہیں شکایتیں بھی تری یقین تجھ پہ نہ ہوتا تو کیوں گماں ...

    مزید پڑھیے

    درد عالم بھی کہیں درد محبت ہی نہ ہو

    درد عالم بھی کہیں درد محبت ہی نہ ہو دل کے بہلانے کی یہ بھی کوئی صورت ہی نہ ہو آج تزئین جمال ایک فسانہ ہی سہی کل یہ مشاطگئی حسن حقیقت ہی نہ ہو ان کی آنکھوں میں مچلتا ہے جو افسانۂ شوق سوچتا ہوں کہیں وہ میری حکایت ہی نہ ہو بے رخی پر جسے محمول کیا کرتا ہوں وہ بھی کچھ آپ کا انداز محبت ...

    مزید پڑھیے

    اب بھی پردے ہیں وہی پردہ دری تو دیکھو

    اب بھی پردے ہیں وہی پردہ دری تو دیکھو عقل کا دعویٰ بالغ نظری تو دیکھو سر پٹکتے ہیں کہ دیوار خمستاں ڈھا دیں حضرت شیخ کی آشفتہ سری تو دیکھو آج ہر زخم کے منہ میں ہے زبان فریاد میرے عیسیٰ کی ذرا چارہ گری تو دیکھو قید نظارہ سے جلووں کو نکلنے نہ دیا دوستوں کی یہ وسیع النظری تو ...

    مزید پڑھیے

    اس کو یہ ضد ہے کہ رہ جائے بدن سر نہ رہے

    اس کو یہ ضد ہے کہ رہ جائے بدن سر نہ رہے گھومتی جائے زمیں اور کوئی محور نہ رہے اس نے ہمت جو بڑھائی بھی تو رکھا یہ لحاظ کوئی بزدل نہ بنے کوئی دلاور نہ رہے اس نے اس طرح اتاری مرے غم کی تصویر رنگ محفوظ تو رہ جائیں پہ منظر نہ رہے اس نے کس ناز سے بخشی ہے مجھے جائے پناہ یوں کہ دیوار ...

    مزید پڑھیے

    تجھے بد نام کرنے پر تلی ہے

    تجھے بد نام کرنے پر تلی ہے گلی ہر راہ رو کو ٹوکتی ہے مرا قصہ مگر تجھ سے تہی سے تری باتوں میں کیا شائستگی ہے سکوت دشت بے خوابی میں پہروں صدائے بربط شب گونجتی ہے وہیں تک ہے کھنڈر کی آخری حد جہاں تک چاندنی پھیلی ہوئی ہے مری تخئیل کے افسردہ لب پر وہ اپنے ہونٹ رکھ کر سو گئی ہے

    مزید پڑھیے

    دل حزیں کو تمنا ہے مسکرانے کی

    دل حزیں کو تمنا ہے مسکرانے کی یہ رت خوشی کی ہے یا ریت ہے زمانے کی بنا گئیں اسے پیچیدہ نت نئی شرحیں کھلی ہوئی تھی حقیقت مرے فسانے کی حرم کے پاس پہنچتے ہی تھک کے بیٹھ گئے وگرنہ راہ تو لی تھی شراب خانے کی کسی کے سایۂ گیسو کی بات چھڑتی ہے مرے قریب رہیں گردشیں زمانے کی میں تیرے غم ...

    مزید پڑھیے

    موسم کے بدلنے کا کچھ اندازہ بھی ہوتا

    موسم کے بدلنے کا کچھ اندازہ بھی ہوتا جب گھر ہی بنایا تھا تو دروازہ بھی ہوتا ہم شعر نمک ریز سناتے سر محفل جو زخم فسردہ تھا تر و تازہ بھی ہوتا تم ہوتے تو معراج خیالات بھی ہوتی بکھرے ہوئے الفاظ کا شیرازہ بھی ہوتا جذبات کی آنکھوں میں چمکتا کوئی شعلہ احساس کے رخسار پہ کچھ غازہ بھی ...

    مزید پڑھیے

    دنیا کا یہ اعزاز یہ انعام بہت ہے

    دنیا کا یہ اعزاز یہ انعام بہت ہے مجھ پر ترے اکرام کا الزام بہت ہے اس عمر میں یہ موڑ اچانک یہ ملاقات خوش گام ابھی گردش ایام بہت ہے بجھتی ہوئی صبحیں ہوں کہ جلتی ہوئی راتیں تجھ سے یہ ملاقات سر شام بہت ہے میں مرحمت خاص کا خواہاں بھی نہیں ہوں میرے لیے تیری نگہ عام بہت ہے کم یاب کیا ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 5