Mazhar Imam

مظہر امام

ممتاز ترین جدید شاعروں میں معروٖف۔ دوردرشن سے وابستہ

One of the most prominent modern poets. Was associated with Doordarshan

مظہر امام کی غزل

    وہ روشنی ہے کہ آنکھوں کو کچھ سجھائی نہ دے

    وہ روشنی ہے کہ آنکھوں کو کچھ سجھائی نہ دے سکوت وہ کہ دھماکہ بھی اب سنائی نہ دے پہنچ گیا ہوں زمان و مکان کے ملبے تک مری انا مجھے الزام نارسائی نہ دے اگر کہیں ہے تو دل چیر کر دکھا مجھ کو تو اپنی ذات کا عرفان دے خدائی نہ دے ازل کے ٹوٹتے رشتوں کی اس کشاکش میں پکار ایسی ادا سے مجھے ...

    مزید پڑھیے

    ہاتھ اٹھتے ہی کٹا چلیے یہاں سے چلیے

    ہاتھ اٹھتے ہی کٹا چلیے یہاں سے چلیے کیا دعا کیسی دعا چلیے یہاں سے چلیے باز ہے کوئی دریچہ نہ کوئی در ہے کھلا کوئی جلوہ نہ ادا چلیے یہاں سے چلیں اس کے گھر پر بھی وہی شہر خموشاں کا سماں کوئی آہٹ نہ صدا چلیے یہاں سے چلیے خواب خوشبوئے طلب رنگ ہوس ناز وفا سارا سرمایہ گیا چلیے یہاں سے ...

    مزید پڑھیے

    ہے بھرے درختوں کے باوجود بن تنہا

    ہے بھرے درختوں کے باوجود بن تنہا روز و شب کے ہنگامے پھر بھی انجمن تنہا رتجگوں کے وہ ساتھی کس جہاں میں بستے ہیں کیا ہمیں تک آئے گی صبح کی کرن تنہا زلف کی حسیں راتیں کس پہ سایہ افگن ہیں میرے گھر تک آئی ہے بوئے یاسمن تنہا تیری یاد نے اٹھ کر مجھ سے کل یہ پوچھا تھا اپنے غم کے صحرا میں ...

    مزید پڑھیے

    اس کی آنکھوں میں تمنائے سحر رکھ دینا

    اس کی آنکھوں میں تمنائے سحر رکھ دینا سینۂ شب میں کسی بات کا ڈر رکھ دینا آج گزرے گا اسی سمت سے وہ مہر بدن دل کے رستے میں ذرا چند شجر رکھ دینا یہ نہ کہنا کہ اندھیرا ہے بہت راہوں میں اس سے ملنا تو ہتھیلی پہ قمر رکھ دینا اس کو اشعار سنانا تو کرامات کے ساتھ اپنے ٹوٹے ہوئے لفظوں میں ...

    مزید پڑھیے

    زندگی کاوش باطل ہے مرا ساتھ نہ چھوڑ

    زندگی کاوش باطل ہے مرا ساتھ نہ چھوڑ تو ہی اک عمر کا حاصل ہے مرا ساتھ نہ چھوڑ لوگ ملتے ہیں سر راہ گزر جاتے ہیں تو ہی اک ہم سفر دل ہے مرا ساتھ نہ چھوڑ تو نے سوچا ہے مجھے تو نے سنوارا ہے مجھے تو مرا ذہن مرا دل ہے مرا ساتھ نہ چھوڑ تو نہ ہوگا تو کہاں جا کے جلوں گا شب بھر تجھ سے ہی گرمئ ...

    مزید پڑھیے

    یہ تجربہ بھی کروں یہ بھی غم اٹھاؤں میں

    یہ تجربہ بھی کروں یہ بھی غم اٹھاؤں میں کہ خود کو یاد رکھوں اس کو بھول جاؤں میں اسی سے پوچھ کے دیکھوں وہ میرا ہے کہ نہیں اب اور کتنا فریب جمال کھاؤں میں وہ بے لباس سہی جامہ زیب کتنا ہے مہ خیال کو پوشاک کیا پہناؤں میں وہ پل کہاں ہے جو دنیا سے جوڑتا تھا مجھے جو تو قریب ہو سب سے ...

    مزید پڑھیے

    ٹوٹی ہوئی دیوار کا سایہ تو نہیں ہوں

    ٹوٹی ہوئی دیوار کا سایہ تو نہیں ہوں میں تیرا ہی بھولا ہوا وعدہ تو نہیں ہوں گزرا تھا دبے پاؤں جہاں سے تو شب ماہ میں ہی وہ ترا باغ تمنا تو نہیں ہوں جس نقش پہ چلنے کی قسم کھاتی ہے دنیا میں ہی وہ ترا نقش کف پا تو نہیں ہوں اوروں سے مرا نام الجھتا ہے تو الجھے شکوہ تجھے کیوں ہو کہ میں ...

    مزید پڑھیے

    اک گزارش ہے بس اتنا کیجیے

    اک گزارش ہے بس اتنا کیجیے جب کبھی فرصت ہو آیا کیجیے لوگ اس کا بھی غلط مطلب نہ لیں اجنبیت سے نہ دیکھا کیجیے خود کو اپنی آنکھ سے دیکھا تو ہے اب مری آنکھوں سے دیکھا کیجیے التجا تھی ایک سادہ التجا اپنی تنہائی میں سوچا کیجیے یاد تو ہوگی وہ اپنی بے رخی اب مری تصویر دیکھا ...

    مزید پڑھیے

    اپنے کھوئے ہوئے لمحات کو پایا تھا کبھی

    اپنے کھوئے ہوئے لمحات کو پایا تھا کبھی میں نے کچھ وقت ترے ساتھ گزارا تھا کبھی آپ کو میرے تعارف کی ضرورت کیا ہے میں وہی ہوں کہ جسے آپ نے چاہا تھا کبھی اب اگر اشک امنڈتے ہیں تو پی جاتا ہوں حوصلہ آپ کے دامن نے بڑھایا تھا کبھی اب اسی گیت کی لے سوچ رہی ہے دنیا میں نے جو گیت تری بزم ...

    مزید پڑھیے

    میرے حریف ہی کو سہی چاہتا تو ہے

    میرے حریف ہی کو سہی چاہتا تو ہے اب اس کی زندگی میں کوئی تیسرا تو ہے مانا گزارتا ہے وہ مصروف زندگی لیکن کبھی کبھی ہی مجھے سوچتا تو ہے چھلکی ہوئی ہیں ساعت جاں کی گلابیاں محفل میں آنسوؤں کی ابھی رت جگا تو ہے اس کو اداس دیکھ کے کتنی خوشی ہوئی میری تمام عمر کا غم آشنا تو ہے نوک مژہ ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 5 سے 5