Mazhar Imam

مظہر امام

ممتاز ترین جدید شاعروں میں معروٖف۔ دوردرشن سے وابستہ

One of the most prominent modern poets. Was associated with Doordarshan

مظہر امام کی غزل

    ترے خیال کا شعلہ تھما تھما سا تھا

    ترے خیال کا شعلہ تھما تھما سا تھا تمام شہر تمنا بجھا بجھا سا تھا نہ جانے موسم تلوار کس طرح گزرا مرے لہو کا شجر تو جھکا جھکا سا تھا ہمیں بھی نیند نے تھپکی دی سو گئے تم بھی تمام حادثۂ شب سنا سنا سا تھا بلائے شام کے سائے تھے اور وادئ دل اگرچہ صبح کا چہرہ دھلا دھلا سا تھا چراغ منزل ...

    مزید پڑھیے

    سانحہ یہ بھی اک روز کر جاؤں گا

    سانحہ یہ بھی اک روز کر جاؤں گا وقت کی پالکی سے اتر جاؤں گا اپنے ٹوٹے ہوئے خواب کی کرچیاں تیری آسودہ آنکھوں میں بھر جاؤں گا روشنی کے سفینے بلاتے رہیں ساحل شب سے ہو کر گزر جاؤں گا اجنبی وادیاں کوئی منزل نہ گھر راستے میں کہیں بھی اتر جاؤں گا میرے دشمن کے دل میں جو برسوں سے ہے وہ ...

    مزید پڑھیے

    کوسوں دور کنارا ہوگا

    کوسوں دور کنارا ہوگا کشتی ہوگی دریا ہوگا پاس تمہیں ہو تم ہی بتاؤ کوئی مجھ سا تنہا ہوگا آؤ اور قریب آ جاؤ وقت بھی رستہ تکتا ہوگا تم سے حسیں تو اور بھی ہوں گے لیکن کوئی تم سا ہوگا اب تو کچھ بھی یاد نہیں ہے ہم نے تم کو چاہا ہوگا ہم نے گریباں چاک کیا تھا ہم کو ہی خود سینا ہوگا جب ...

    مزید پڑھیے

    دلوں کے رنگ عجب رابطہ ہے کتنی دیر

    دلوں کے رنگ عجب رابطہ ہے کتنی دیر وہ آشنا ہے مگر آشنا ہے کتنی دیر نئی ہوا ہے کریں مشعل ہوس روشن کہ شمع درد چراغ وفا ہے کتنی دیر اب آرزو کو تری بے صدا بھی ہونا ہے ترے فقیر کے لب پر دعا ہے کتنی دیر اب اس کو سوچتے ہیں اور ہنستے جاتے ہیں کہ تیرے غم سے تعلق رہا ہے کتنی دیر ہے خشک چشمۂ ...

    مزید پڑھیے

    تو ہے گر مجھ سے خفا خود سے خفا ہوں میں بھی

    تو ہے گر مجھ سے خفا خود سے خفا ہوں میں بھی مجھ کو پہچان کہ تیری ہی ادا ہوں میں بھی ایک تجھ سے ہی نہیں فصل تمنا شاداب وہی موسم ہوں وہی آب و ہوا ہوں میں بھی مجھ کو پانا ہو تو ہر لمحہ طلب کر نہ مجھے رات کے پچھلے پہر مانگ! دعا ہوں میں بھی ثبت ہوں دست خموشی پہ حنا کی صورت ناشنیدہ ہی سہی ...

    مزید پڑھیے

    وہی دشت بلا ہے اور میں ہوں

    وہی دشت بلا ہے اور میں ہوں زمانے کی ہوا ہے اور میں ہوں تجھے اے ہم سفر کیسے سنبھالوں پہاڑی راستہ ہے اور میں ہوں سکوت کوہ ہے اور سایۂ در صدائے ماسوا ہے اور میں ہوں مگر شاخوں سے پتے گر رہے ہیں وہی آب و ہوا ہے اور میں ہوں یہ ساری برف گرنے دو مجھی پر تپش سب سے سوا ہے اور میں ہوں کئی ...

    مزید پڑھیے

    پھر آپ نے دیکھا ہے محبت کی نظر سے

    پھر آپ نے دیکھا ہے محبت کی نظر سے گزرے نہ کہیں گردش دوراں بھی ادھر سے پوچھیں تو ذرا پیچ و خم راہ کی باتیں کچھ لوگ ابھی لوٹ کے آئے ہیں سفر سے شاید کہیں سورج کی کرن شام کو پھوٹے ہم شمع جلائے ہوئے بیٹھے ہیں سحر سے لوگو مری آشفتہ سری پر نہ کرو طنز الزام اتارو کوئی اس زلف کے سر ...

    مزید پڑھیے

    نگاہ و دل کے پاس ہو وہ میرا آشنا رہے

    نگاہ و دل کے پاس ہو وہ میرا آشنا رہے ہوس ہے یا کہ عشق ہے یہ کون سوچتا رہے وہ میرا جب نہ ہو سکا تو پھر یہی سزا رہے کسی کو پیار جب کروں وہ چھپ کے دیکھتا رہے اسے منا تو لوں مگر یہ سلسلہ بھی کیا رہے الگ ہے اس کا ذائقہ کہ وہ کھنچا کھنچا رہے مشام جاں پہ خوشبوؤں کی جب پھوار ہی نہ ہو ہزار ...

    مزید پڑھیے

    ہر ایک شخص کا چہرہ اداس لگتا ہے

    ہر ایک شخص کا چہرہ اداس لگتا ہے یہ شہر میرا طبیعت شناس لگتا ہے کھلا ہو باغ میں جیسے کوئی سفید گلاب وہ سادہ رنگ نگاہوں کو خاص لگتا ہے سپردگی کا نشہ بھی عجیب نشہ ہے وہ سر سے پاؤں تلک التماس لگتا ہے ہوا میں خوشبوئے موسم کہیں سوا تو نہیں وہ پاس ہے یہ بعید از قیاس لگتا ہے

    مزید پڑھیے

    زمانہ اب یہ کیسا آ رہا ہے

    زمانہ اب یہ کیسا آ رہا ہے کہ ہر بدمست سنبھلا جا رہا ہے جلاتی ہے خرد شمعوں پہ شمعیں اندھیرا ہے کہ بڑھتا جا رہا ہے دعائیں کر رہے ہیں اہل ساحل سفینہ ہے کہ ڈوبا جا رہا ہے مگر بڑھتی نہیں ہے بات آگے زمانہ ہے کہ گزرا جا رہا ہے بھرا تھا رنگ جس خاکے میں برسوں وہ خاکہ یک بہ یک دھندلا رہا ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 4 سے 5