رخصت شام ہے اور وعدے کا سایہ بھی نہیں

رخصت شام ہے اور وعدے کا سایہ بھی نہیں
اب تکلف نہ کروں جا کے تقاضا ہو جاؤں


کب سے ہوں ماہی بے آب زمانے کی طرح
کوئی نیکی ہو ترے پاس تو دریا ہو جاؤں


کتنے پیچیدہ مسائل کی تھکن ہے مجھ میں
اک ذرا سوچ لوں تجھ کو تر و تازہ ہو جاؤں


کتنے پہلو ہیں کئی رنگ چھپے ہیں مجھ میں
ابھی ایسا ہوں جو تو چاہے تو ویسا ہو جاؤں


اپنے سینے میں ہیں ٹھہری ہوئی سانسیں کب سے
زلزلہ بن کے تو آ میں تہ و بالا ہو جاؤں


وہ رفاقت پہ رضامند نہیں ہے تو نہ ہو
کیا میں اس شخص کے ہوتے ہوئے تنہا ہو جاؤں


بے یقینی ہے کچھ امروز میں اتنی مظہرؔ
جی میں آتا ہے کہ اندیشۂ فردا ہو جاؤں