اکھڑتے خیموں کا درد
کہیں بھی جائے اماں نہیں ہے نہ روشنی میں نہ تیرگی میں نہ زندگی میں نہ خودکشی میں عقیدے زخموں سے چور پیہم کراہتے ہیں یقین کی سانس اکھڑ چلی ہے جمیل خوابوں کے چہرۂ غمزدہ سے ناسور رس رہا ہے عزیز قدروں پہ جاں کنی کی گرفت مضبوط ہو گئی ہے پتنگ کی طرح کٹ چکے ہیں تمام رشتے جو آدمی کو قریب ...