جذبۂ ہمسری ہر رخ سے عیاں ہوتا ہے
جذبۂ ہمسری ہر رخ سے عیاں ہوتا ہے تیری محفل میں جہاں میرا بیاں ہوتا ہے آئنہ ہوتا ہے جب میرے مقابل اے دوست تیری صورت ترا رخ اس سے عیاں ہوتا ہے اک حسیں پھول کا پیکر ہے سہانی شب ہے پھر مرے سینے میں اک درد جواں ہوتا ہے دیکھنا جانب گلزار ذرا اہل قفس بات کیا ہے یہ ادھر کیسا دھواں ہوتا ...