Maya Khanna Raje Barelvi

مایا کھنّہ راجے بریلوی

مایا کھنّہ راجے بریلوی کی غزل

    جذبۂ ہمسری ہر رخ سے عیاں ہوتا ہے

    جذبۂ ہمسری ہر رخ سے عیاں ہوتا ہے تیری محفل میں جہاں میرا بیاں ہوتا ہے آئنہ ہوتا ہے جب میرے مقابل اے دوست تیری صورت ترا رخ اس سے عیاں ہوتا ہے اک حسیں پھول کا پیکر ہے سہانی شب ہے پھر مرے سینے میں اک درد جواں ہوتا ہے دیکھنا جانب گلزار ذرا اہل قفس بات کیا ہے یہ ادھر کیسا دھواں ہوتا ...

    مزید پڑھیے

    روایات دار و رسن چھوڑ آئے

    روایات دار و رسن چھوڑ آئے ہم اک عشق کا بانکپن چھوڑ آئے جو خوف خزاں سے چمن چھوڑ آئے ارادوں کی اپنے تھکن چھوڑ آئے جہاں موڑ آیا ہے دشواریوں کا عزائم کو ہمت شکن چھوڑ آئے وہ محفل میں یوں آج جلوہ فگن ہے کوئی چاند جیسے گگن چھوڑ آئے جہاں سے چلے ہیں تری جستجو میں وہاں اک وفا کا چلن چھوڑ ...

    مزید پڑھیے

    درد کو کتنا چین ملا ہے پروانوں کی محفل میں

    درد کو کتنا چین ملا ہے پروانوں کی محفل میں چارہ گری دم توڑ گئی ہے نادانوں کی محفل میں اپنوں کی محفل میں دل پر طنز کے نشتر برسے ہیں کس درجہ اخلاص ملا ہے بیگانوں کی محفل میں آج وفا پر ذکر کریں گے اہل خرد سے دیوانے آج جنوں کی شمع جلے گی فرزانوں کی محفل میں اب کے ہم بھی وحشت دل کو ...

    مزید پڑھیے

    ایک ایسا عزم راسخ اب ہمارے دل میں ہے

    ایک ایسا عزم راسخ اب ہمارے دل میں ہے گردش ایام بھی خود ان دنوں مشکل میں ہے اپنی الفت پر بہت کچھ تبصرے ہوتے رہے آزمائش میری خاموشی کی ہر محفل میں ہے رہرو منزل نہ سمجھا آج تک یہ فلسفہ کاروان زندگی کا ہر قدم منزل میں ہے اس خوشی کا ہو برا مجبور کتنا کر دیا سوچ کر ہی رہ گئے ہم کیسی ...

    مزید پڑھیے

    جب بھی سینے میں کسی بت کو سجایا ہم نے

    جب بھی سینے میں کسی بت کو سجایا ہم نے اک حجاب آپ کے چہرے سے اٹھایا ہم نے نام لینے سے ترا باز نہ آیا پھر بھی دل کمبخت کو سمجھایا بجھایا ہم نے تیری تصویر پہ کچھ سوچ کے اکثر اپنا نام لکھ لکھ کے کئی بار مٹایا ہم نے ایک احساس کی بندش کے سوا کچھ بھی نہیں آپ کے پیار سے اس راز کو پایا ہم ...

    مزید پڑھیے

    ہاں ترے پیار کی بہار ہوں میں

    ہاں ترے پیار کی بہار ہوں میں اس کہانی کا اختصار ہوں میں بے قراری میں اک قرار ہوں میں ذرے ذرے سے آشکار ہوں میں اے مری زیست کی حسیں امید صبح کا تیری اعتبار ہوں میں مشعل راہ زندگی ہے تو اور منزل کی رازدار ہوں میں کون جانے گا کون سمجھے گا کس قدر کتنی بے قرار ہوں میں مری آنکھوں کی ...

    مزید پڑھیے

    تم سے پوشیدہ کوئی بات نہیں

    تم سے پوشیدہ کوئی بات نہیں ہاں نہیں جان التفات نہیں ہر گھڑی ان کا دھیان ان کا خیال صبح اپنی نہیں ہے رات نہیں دل میں کتنی ہی داستانیں ہیں اور ہونٹوں پہ کوئی بات نہیں کل یہی رات تھی یہی ہم تھے آج کی رات میں وہ بات نہیں غم جاناں کبھی غم دوراں غم سے آخر ہمیں نجات نہیں اپنی منزل پہ ...

    مزید پڑھیے

    دریائے نور و رنگ ہے نکہت ہے زندگی

    دریائے نور و رنگ ہے نکہت ہے زندگی پیغمبر خلوص و محبت ہے زندگی چاہو تو ہر قدم پہ تمہیں منزلیں ملیں سوچو تو حوصلہ ہے شجاعت ہے زندگی یہ امتیاز و فرق یہ نفرت حقارتیں اور مذہب وفا کی شریعت ہے زندگی میری نظر نہیں نگۂ شیخ و برہمن پستی نہیں ہے عرش کی رفعت ہے زندگی پھر شام ہجر آئے گی ...

    مزید پڑھیے

    کن منزلوں میں گردش لیل و نہار ہے

    کن منزلوں میں گردش لیل و نہار ہے ان کا کرم بھی میری طبیعت پہ بار ہے میری زباں پہ حرف شکایت کا مدعا ان کی زباں پہ وعدۂ بے اعتبار ہے دیکھے الٹ کے کوئی جو تاریخ کے ورق ہر نغمہ میرا ضامن فصل بہار ہے اک کشمکش سی ہو گئی موت و حیات میں آنکھوں کو میری جب سے ترا انتظار ہے خود اپنے آپ جان ...

    مزید پڑھیے

    غیر سے ان کی ملاقات کہاں تھی پہلے

    غیر سے ان کی ملاقات کہاں تھی پہلے آج جو بات ہے وہ بات کہاں تھی پہلے اب تو بے بات ہی رہتے ہو کشیدہ خاطر بے رخی مجھ سے یہ بے بات کہاں تھی پہلے میرے حالات نے کچھ اس کو تسلی دی ہے مطمئن گردش حالات کہاں تھی پہلے اب تو ہر بات پہ طعنہ ہی مجھے ملتا ہے آپ کی بزم میں یہ بات کہاں تھی پہلے ہو ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2