دریائے نور و رنگ ہے نکہت ہے زندگی

دریائے نور و رنگ ہے نکہت ہے زندگی
پیغمبر خلوص و محبت ہے زندگی


چاہو تو ہر قدم پہ تمہیں منزلیں ملیں
سوچو تو حوصلہ ہے شجاعت ہے زندگی


یہ امتیاز و فرق یہ نفرت حقارتیں
اور مذہب وفا کی شریعت ہے زندگی


میری نظر نہیں نگۂ شیخ و برہمن
پستی نہیں ہے عرش کی رفعت ہے زندگی


پھر شام ہجر آئے گی سیل الم لیے
پھر رو کے ہم کہیں گے کہ فرقت ہے زندگی


گلیوں کی خاک چھانی تو موتی ملے ہیں
یہ کہہ کے ہم نہ سوئے کہ راحت ہے زندگی


راجےؔ جو کچھ بھی فیصلہ اہل خرد کریں
میرے لیے تو صرف محبت ہے زندگی