تم سے پوشیدہ کوئی بات نہیں

تم سے پوشیدہ کوئی بات نہیں
ہاں نہیں جان التفات نہیں


ہر گھڑی ان کا دھیان ان کا خیال
صبح اپنی نہیں ہے رات نہیں


دل میں کتنی ہی داستانیں ہیں
اور ہونٹوں پہ کوئی بات نہیں


کل یہی رات تھی یہی ہم تھے
آج کی رات میں وہ بات نہیں


غم جاناں کبھی غم دوراں
غم سے آخر ہمیں نجات نہیں


اپنی منزل پہ آ گئی ہے حیات
حادثے اور سانحات نہیں


مل گیا ہے کسی کا غم راجےؔ
اب غم و فکر کائنات نہیں