درد کو کتنا چین ملا ہے پروانوں کی محفل میں
درد کو کتنا چین ملا ہے پروانوں کی محفل میں
چارہ گری دم توڑ گئی ہے نادانوں کی محفل میں
اپنوں کی محفل میں دل پر طنز کے نشتر برسے ہیں
کس درجہ اخلاص ملا ہے بیگانوں کی محفل میں
آج وفا پر ذکر کریں گے اہل خرد سے دیوانے
آج جنوں کی شمع جلے گی فرزانوں کی محفل میں
اب کے ہم بھی وحشت دل کو بہلانے لے جائیں گے
اب کے بہاریں رقص کریں گی ویرانوں کی محفل میں
چاند کی کرنوں کی باہوں میں سونے والے جاگ اٹھیں
ہلچل مچ جائے نہ مرے ارمانوں کی محفل میں
ہم سوداگر اشک وفا کے کون ہمیں پہچانے گا
کون حقیقت کو سمجھے گا افسانوں کی محفل میں
در در ہم نے ٹھوکریں کھائیں دیر و حرم بھی گھوم آئے
راجےؔ مگر انسان ملے ہیں پیمانوں کی محفل میں