روایات دار و رسن چھوڑ آئے
روایات دار و رسن چھوڑ آئے
ہم اک عشق کا بانکپن چھوڑ آئے
جو خوف خزاں سے چمن چھوڑ آئے
ارادوں کی اپنے تھکن چھوڑ آئے
جہاں موڑ آیا ہے دشواریوں کا
عزائم کو ہمت شکن چھوڑ آئے
وہ محفل میں یوں آج جلوہ فگن ہے
کوئی چاند جیسے گگن چھوڑ آئے
جہاں سے چلے ہیں تری جستجو میں
وہاں اک وفا کا چلن چھوڑ آئے
ہمیں بے وفائی کا یوں غم نہیں ہے
ہم اک ان کے دل میں چبھن چھوڑ آئے
جہاں ٹھیس پہنچی ہماری انا کو
زمیں کیا ہے راجےؔ گگن چھوڑ آئے