Maya Khanna Raje Barelvi

مایا کھنّہ راجے بریلوی

مایا کھنّہ راجے بریلوی کی غزل

    نہ تیرگی کے لئے ہیں نہ روشنی کے لیے

    نہ تیرگی کے لئے ہیں نہ روشنی کے لیے شب و سحر کے تقاضے ہیں بندگی کے لئے ہمارا خون بھی حاضر ہے اے خرد مندو تمہارے دور کی بے کیف زندگی کے لیے سواد شام تو ہے عام بزم فطرت میں مگر طلوع سحر ہے کسی کسی کے لئے رہ طلب میں اندھیروں کو کوسنے والو کسی نے دل بھی جلایا ہے روشنی کے لئے کچھ ...

    مزید پڑھیے

    کوئی نامہ نہیں پیام نہیں

    کوئی نامہ نہیں پیام نہیں یہ محبت کا احترام نہیں گردشوں کی نوازشیں توبہ بادہ نوشی بھی اب حرام نہیں زندگی کو قریب سے دیکھا موت ہی آخری مقام نہیں اک پریشاں ہے دوسرا شاداں رسم جینے کی بھی تو عام نہیں جشن ہوتے ہیں سب دکھاوے کے سرفروشوں کا احترام نہیں کام جتنے ہیں سب ادھورے ...

    مزید پڑھیے

    عشق میں ہر بلا کو آنے دو

    عشق میں ہر بلا کو آنے دو مجھ کو میرا مقام پانے دو گزری باتوں کو کیسے جانے دوں عہد ماضی کو یاد آنے دو مرحلوں سے گریز کیا مانع ہمت زیست کو بڑھانے دو خود سمجھ لیں گے دل کو وہ میرے ان کو دل کے قریب آنے دو کل انہیں بھی تو پھول بننا ہے آج غنچوں کو مسکرانے دو ان کی دریا دلی کو دیکھیں ...

    مزید پڑھیے

    یقین و علم کی فضا نہ شہر میں نہ گاؤں میں

    یقین و علم کی فضا نہ شہر میں نہ گاؤں میں کسی کا کوئی مدعا نہ شہر میں نہ گاؤں میں سمجھ سکے جو راستے میں گردشوں کی چال کو کوئی بھی ایسا رہنما نہ شہر میں نہ گاؤں میں سسک رہی ہیں عزتیں اچھل رہی ہیں پگڑیاں شرافتوں سے واسطہ نہ شہر میں نہ گاؤں میں وطن میں لوٹ ہو رہی ترقیوں کے نام ...

    مزید پڑھیے

    یہ فطرت کی حقیقت ہے جو جھٹلائی نہیں جاتی

    یہ فطرت کی حقیقت ہے جو جھٹلائی نہیں جاتی ہے کیا شے پتلۂ خاکی میں جو پائی نہیں جاتی حضور حسن میں یہ عشق کی خودداریاں ناداں تمنا عرض کی جاتی ہے فرمائی نہیں جاتی مجھے اے دل اسی کوچے اسی محفل میں پھر لے چل طبیعت میکدے میں مجھ سے بہلائی نہیں جاتی مرا رونا مرے بس میں نہیں ہے ناصح ...

    مزید پڑھیے

    ہزار مصلحت وقت ساتھ ساتھ رہی

    ہزار مصلحت وقت ساتھ ساتھ رہی جنوں کے سامنے بازی خرد کی مات رہی جہاں بھی میں نے امارت کا احترام کیا وہیں پہ روٹھ کے مجھ سے مری حیات رہی تری نگاہ کرم پر یقین کیا آیا فریب حسن میں یہ ساری کائنات رہی وہ اک کلی نے چٹک کر چمن کو سمجھا دی جو بات چیت ستاروں سے ساری رات رہی خرد نے لاکھ ...

    مزید پڑھیے

    چونک اٹھے عقل والے یہ کیا کہہ دیا

    چونک اٹھے عقل والے یہ کیا کہہ دیا حسن کو میں نے اپنا خدا کہہ دیا نور دل سے ہے روشن جہان وفا دل کو میں نے چراغ وفا کہہ دیا پھول مسکائے کلیوں نے انگڑائی لی اے نسیم سحر تو نے کیا کہہ دیا میں نے دل میں کوئی بات رکھی نہیں میں نے ہر بات کو برملا کہہ دیا میری روداد غم کھا گئی ہے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2