نہ تیرگی کے لئے ہیں نہ روشنی کے لیے
نہ تیرگی کے لئے ہیں نہ روشنی کے لیے شب و سحر کے تقاضے ہیں بندگی کے لئے ہمارا خون بھی حاضر ہے اے خرد مندو تمہارے دور کی بے کیف زندگی کے لیے سواد شام تو ہے عام بزم فطرت میں مگر طلوع سحر ہے کسی کسی کے لئے رہ طلب میں اندھیروں کو کوسنے والو کسی نے دل بھی جلایا ہے روشنی کے لئے کچھ ...