ایک ایسا عزم راسخ اب ہمارے دل میں ہے
ایک ایسا عزم راسخ اب ہمارے دل میں ہے
گردش ایام بھی خود ان دنوں مشکل میں ہے
اپنی الفت پر بہت کچھ تبصرے ہوتے رہے
آزمائش میری خاموشی کی ہر محفل میں ہے
رہرو منزل نہ سمجھا آج تک یہ فلسفہ
کاروان زندگی کا ہر قدم منزل میں ہے
اس خوشی کا ہو برا مجبور کتنا کر دیا
سوچ کر ہی رہ گئے ہم کیسی خواہش دل میں ہے
تیری میری کہنے والے سوچ لینا ایک بار
جھوٹ کھلنے پر تری عزت کسی محفل میں ہے
سائباں تو ہے نہیں کوئی بھی راہ عشق میں
سوچ کر رہ رہ کے یہ اہل خرد مشکل میں ہے
ہم سے راجےؔ دشمنوں کا بھی برا ہوتا نہیں
دوستی کا پاس اتنا تو ہمارے دل میں ہے