جب بھی سینے میں کسی بت کو سجایا ہم نے
جب بھی سینے میں کسی بت کو سجایا ہم نے
اک حجاب آپ کے چہرے سے اٹھایا ہم نے
نام لینے سے ترا باز نہ آیا پھر بھی
دل کمبخت کو سمجھایا بجھایا ہم نے
تیری تصویر پہ کچھ سوچ کے اکثر اپنا
نام لکھ لکھ کے کئی بار مٹایا ہم نے
ایک احساس کی بندش کے سوا کچھ بھی نہیں
آپ کے پیار سے اس راز کو پایا ہم نے
کبھی اس دل کے ورق پر جو لکھی تھی تحریر
تیرا خط پڑھ کے اسے آج مٹایا ہم نے
آج کس درجہ بلندی پہ ہے قسمت اپنی
آپ کی بزم میں دل اپنا جلایا ہم نے
راجےؔ ہم کس سے کہیں کون سنے گا فریاد
اس جہاں میں کوئی انسان نہ پایا ہم نے