ہاں ترے پیار کی بہار ہوں میں
ہاں ترے پیار کی بہار ہوں میں
اس کہانی کا اختصار ہوں میں
بے قراری میں اک قرار ہوں میں
ذرے ذرے سے آشکار ہوں میں
اے مری زیست کی حسیں امید
صبح کا تیری اعتبار ہوں میں
مشعل راہ زندگی ہے تو
اور منزل کی رازدار ہوں میں
کون جانے گا کون سمجھے گا
کس قدر کتنی بے قرار ہوں میں
مری آنکھوں کی روشنی ہے تو
تو ہے سورج ترا حصار ہوں میں
ظلمتوں کے خلاف اے راجےؔ
ایک شمشیر آبدار ہوں میں