سانس چلتی رہتی ہے زندگی نہیں ہوتی
سانس چلتی رہتی ہے زندگی نہیں ہوتی
بے بسی کے لمحوں میں شاعری نہیں ہوتی
عشق بات کرتا ہے دل طواف کرتا ہے
ارد گرد پھرنے سے عاشقی نہیں ہوتی
زندگی کے صحرا میں ایک چاند کافی ہے
قمقموں کی کثرت سے روشنی نہیں ہوتی
خون کی روانی میں اس قدر محبت ہے
نفرتوں کے حلقوں سے دوستی نہیں ہوتی
خواہشوں کے لشکر سے روز لڑتا رہتا ہوں
یہ بھی اک معمہ ہے دشمنی نہیں ہوتی
تم نے بت بنائے ہیں تم کو ہی مبارک ہوں
بت شکن قبیلے سے آذری نہیں ہوتی
سب خزاں کے پتوں میں گل بہار منظر ہے
خوشبوؤں کے آنے کی مخبری نہیں ہوتی