پوشاک محبت تھی پھٹی ہم نے وہ سی دی
پوشاک محبت تھی پھٹی ہم نے وہ سی دی
احساس کی نگری میں کھلا رنگ شہیدی
کس جبر کا نرغہ ہے مدینے کی ریاست
خاموش ہے کیوں کیا ہے کوئی عہد یزیدی
ہم گریہ کے پھولوں سے گرا ڈالیں گے اک دن
دیوار کے پیچھے بھی ہے دیوار حدیدی
تم اپنے تصور سے بناتے ہو جو مصرعے
یہ ہم نے دئے تم کو خیالات جدیدی
یہ اپنا تیقن تھا کہ مل جائے گی منظرؔ
سید تھے سو بھولے سے بھی دنیا نہ خریدی