نہ کوئی شب بدلتی ہے نہ کوئی دن بدلتا ہے

نہ کوئی شب بدلتی ہے نہ کوئی دن بدلتا ہے
لہو ظلمت میں جب بولے نیا سورج نکلتا ہے


کوئی دشت بلا ہو یا کوئی بھی ریگ صحرا ہو
جہاں ہم ایڑیاں رگڑیں وہاں چشمہ ابلتا ہے


گماں کا زہر پیتے ہو یقیں کا شہد بھی چکھو
اسی کے ذائقے سے موت کا نشہ بدلتا ہے


اسی کے ساتھ چلتا ہے کوئی امید کا جگنو
کہ جس کے دل میں بھی کوئی چراغ عشق جلتا ہے


یہ منظر بارہا دیکھا کہ ہر اک وقت کا جابر
لہو کی روشنی میں آ کے اپنی آنکھ ملتا ہے