ہجر کے دن کی رات ہوئی برسات ہوئی
ہجر کے دن کی رات ہوئی برسات ہوئی
آنکھ سے دل کی بات ہوئی برسات ہوئی
تنہا تھا تو صاف رہا یہ مطلع دل
یاد تمہاری سات ہوئی برسات ہوئی
دل کا البم کھول کے گم صم بیٹھا تھا
تصویروں سے بات ہوئی برسات ہوئی
دھوپ مسافت کاٹی ہم نے ہنس ہنس کر
منزل پر جب رات ہوئی برسات ہوئی
پیار کے کھیل میں منظر یہ بھی دیکھا ہے
جیت ہوئی یا مات ہوئی برسات ہوئی