لہو میں تر ہے زمانے کا انتخاب وجود
لہو میں تر ہے زمانے کا انتخاب وجود
صلیب وقت پہ آیا ہے کامیاب وجود
حسد کی آگ میں جلتے رہو تو جلتے رہو
چمن کی خاک میں ہوگا مرا گلاب وجود
وجود خاک ہی تو خاک کی امانت ہے
تمہارا خوف رہے گا مرا حجاب وجود
یہ ٹوٹتا نہیں جھکتا نہیں بدلتا نہیں
تمہارے سارے سوالوں کا ہے جواب وجود
تمہارے دن میں مرا نام ہی تو سورج ہے
تمہاری رات میں منظرؔ ہے ماہتاب وجود