وہ شستہ شستہ گیسو پاکیزہ تر نگاہیں
وہ شستہ شستہ گیسو پاکیزہ تر نگاہیں سائے میں میکدے کے آباد خانقاہیں پاس ادب سے کب تک نیچی رہیں نگاہیں شفاف آستینیں جلوہ فراش باہیں ان کے لیے نہیں ہیں موزوں الم کراہیں یہ گرم گرم آنسو یہ سرد سرد آہیں گزرے ہیں وہ ادھر سے تصدیق ہو رہی ہے گل ہے نہ گلستاں ہے مہکی ہوئی ہیں راہیں یاد ...