Mani Nagpuri

مانی ناگپوری

مانی ناگپوری کی غزل

    وہ شستہ شستہ گیسو پاکیزہ تر نگاہیں

    وہ شستہ شستہ گیسو پاکیزہ تر نگاہیں سائے میں میکدے کے آباد خانقاہیں پاس ادب سے کب تک نیچی رہیں نگاہیں شفاف آستینیں جلوہ فراش باہیں ان کے لیے نہیں ہیں موزوں الم کراہیں یہ گرم گرم آنسو یہ سرد سرد آہیں گزرے ہیں وہ ادھر سے تصدیق ہو رہی ہے گل ہے نہ گلستاں ہے مہکی ہوئی ہیں راہیں یاد ...

    مزید پڑھیے

    پر سوز ترنم میں کیا شمع غزل خواں ہے

    پر سوز ترنم میں کیا شمع غزل خواں ہے لو جھومتی جاتی ہے پروانہ بھی رقصاں ہے دیرینہ خرابوں پر تعمیر گلستاں ہے با وصف ہجوم گل رنگینیٔ ویراں ہے شعلہ ہو کہ خوشبو ہو تاثیر میں یکساں ہے ہر شمع مہکتی ہے ہر پھول فروزاں ہے دل کے کسی جذبے کو کیا نام ابھی سے دوں جو ان کی نگاہوں سے ٹکرائے وہ ...

    مزید پڑھیے

    قید جب ہم پہ لگی وسعت داماں کے لیے

    قید جب ہم پہ لگی وسعت داماں کے لیے کتنی کثرت سے کھلے پھول گلستاں کے لیے وہ مناجاتیں کہاں ہیں ترے احساں کے لیے کثرت شوق نہیں عالم حرماں کے لیے جیسے ہر حسن سے ممتاز ہے وہ حسن تمام ہم ہیں اعزاز کے قابل نہیں جاناں کے لیے قارئین نگۂ ناز ہی سمجھے وہ خط سرخ ڈوروں میں جو تحریر ہے ...

    مزید پڑھیے

    لطف بے باک ملاقات کا مشکل سے اٹھا

    لطف بے باک ملاقات کا مشکل سے اٹھا ایک پردہ تھا بالآخر جو مقابل سے اٹھا حسن خلوت طلبی کے لیے محفل سے اٹھا غیر از عشق جو جذبہ ہو اسے دل سے اٹھا کیف ویرانیٔ خلوت سے نہ محفل سے اٹھا ذوق دل بستگی جب تک نہ تہ دل سے اٹھا عشق جیسی کوئی شخصیت جامع نہ ملی ایک بھی حرف اس افسانے کا مشکل سے ...

    مزید پڑھیے

    دل تباہ بھی ہے عالم خراب بھی ہے

    دل تباہ بھی ہے عالم خراب بھی ہے نگاہ دوست یہی وقت انقلاب بھی ہے دو آتشہ سر رخسار ہو گئے آنسو گلوں پہ قطرۂ شبنم نہیں شراب بھی ہے نگاہ شوق لرزتے ہیں تار چلمن کے تلاش کر انہی کرنوں میں آفتاب بھی ہے کہاں سے دیکھیے موج سرور اٹھتی ہے نگاہ ناز بھی ہے ساغر شراب بھی ہے خلاف اہل سفینہ ...

    مزید پڑھیے

    مہکے گیسو عارض نورس

    مہکے گیسو عارض نورس شام اودھ اور صبح بنارس ان سے ملنا مشکل از بس چاندنی راتیں درباں چوکس آنسو کو دامن میں لے لو پھول کی خوشبو جائے رچ بس خامے فرشتوں کے لہرائیں عمداً ان کے شانے سے مس وہ جن کے قبضے میں خدائی عشق کی دنیا میں ہیں بے بس عجز وفا بھی جرم ہے شاید شہر بدر ہو جائیں ...

    مزید پڑھیے

    شاعری حاصل دیوانگی دل تو نہیں

    شاعری حاصل دیوانگی دل تو نہیں نرم حلقے تری زلفوں کے سلاسل تو نہیں قوس ابرو خم گیسو شکن پیشانی آج بھی عشق کے پیچیدہ مسائل تو نہیں اک جھلک دور سے دکھلا کے وہ چھپ جاتے ہیں سنگ میل آئے ہیں کچھ راہ میں منزل تو نہیں تیز رو چاند گھٹاؤں میں تہ و بالا ہے مضطرب کوئی سفینہ پئے ساحل تو ...

    مزید پڑھیے

    سوز دروں نے راہ کو آساں بنا دیا

    سوز دروں نے راہ کو آساں بنا دیا جب آگ میں گرے تو گلستاں بنا دیا کچھ لوگ اپنی رو میں سحر خیز ہو گئے خوش پوش نے حریص گریباں بنا دیا اس کو ادائے حسن کہ حسن ادا کہوں اس شوخ نے ستم کو بھی احساں بنا دیا ساکن تھی موج زلف کے بحر سیاہ میں باد صبا نے چھیڑ کے طوفاں بنا دیا دنیائے تنگ دل نے ...

    مزید پڑھیے

    نیند میں ہے زمیں آسماں سو گیا

    نیند میں ہے زمیں آسماں سو گیا آ بھی جاؤ کہ سارا جہاں سو گیا آؤ خلوت سرائے حرم چھوڑ کر بام و در سو گئے پاسباں سو گیا صبح دم نقش پا ان کے دھندلا گئے چاند بر جادۂ کہکشاں سو گیا بال بکھرے ہوئے چہرہ اترا ہوا شب کی آغوش میں گلستاں سو گیا غم کی لو تیز ہنگامۂ شوق کم آگ سلگا دی اور ...

    مزید پڑھیے

    نم ہیں وہ آنکھیں برا ہو عشق کی تاثیر کا

    نم ہیں وہ آنکھیں برا ہو عشق کی تاثیر کا دوسرا رخ کتنا دردانگیز ہے تصویر کا وہ مجسم حسن و تمکیں دل سراپا درد و غم جیسے سوداؔ کے قصائد اور تغزل میرؔ کا ہند کے لالہ رخو از روئے تعمیر وطن رنگ ہر خطے کو دے دو جنت کشمیر کا شوق کی آنکھیں ہیں عکاس بہار حسن دوست دل صدا بند غنائے لحن ہے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 3