نیند میں ہے زمیں آسماں سو گیا

نیند میں ہے زمیں آسماں سو گیا
آ بھی جاؤ کہ سارا جہاں سو گیا


آؤ خلوت سرائے حرم چھوڑ کر
بام و در سو گئے پاسباں سو گیا


صبح دم نقش پا ان کے دھندلا گئے
چاند بر جادۂ کہکشاں سو گیا


بال بکھرے ہوئے چہرہ اترا ہوا
شب کی آغوش میں گلستاں سو گیا


غم کی لو تیز ہنگامۂ شوق کم
آگ سلگا دی اور کارواں سو گیا


زلف و رخ کیا کہیں دن کہیں رات ہے
اک جہاں جاگ اٹھا اک جہاں سو گیا


مانیؔ شمع حریم غزل بجھ گئی
وہ جگرؔ شاعر‌ خوش بیاں سو گیا