Mani Nagpuri

مانی ناگپوری

مانی ناگپوری کی غزل

    کنار چشم سے ابرو تک آ گیا کاجل

    کنار چشم سے ابرو تک آ گیا کاجل کہ آج صحن حرم میں اتر گئے بادل نگاہ شوق گئی جب بھی خوش لباسوں تک درست ہو گئیں زلفیں سنور گئے آنچل نہ پوچھ حسن کے اندیشہ ہائے رسوائی زہے جنوں کہ جسے یاد مصلحت نہ محل مگر کسی سے نمائندگیٔ حق نہ ہوئی صنم کدے نے تراشے ہزار لاتؔ و حبلؔ بصد نشاط ہیں وہ ...

    مزید پڑھیے

    بجھا دیتا ہوس کی تشنگی وہ جام ہے ساقی

    بجھا دیتا ہوس کی تشنگی وہ جام ہے ساقی جہاں میں جس سے ملتا ہوں وہی ناکام ہے ساقی نشہ گہرا کہاں اتنا کہ ہوں چودہ طبق روشن ترقی یافتہ ملکوں کی بادہ خام ہے ساقی مرے اطراف ہے تیرہ شبی میں نور کا حلقہ کہ شمع راہ میخانے سے گھر تک جام ہے ساقی کتاب سیرت و اخلاق دے انساں کے ہاتھوں ...

    مزید پڑھیے

    عشق افشا ہو گیا ہم روشنی میں آ گئے

    عشق افشا ہو گیا ہم روشنی میں آ گئے کتنے پردے کام اک بے پردگی میں آ گئے راہ ممنوعہ کی جانب بھی قدم اٹھ ہی گئے جس طرف آنا نہ تھا ہم بے خودی میں آ گئے نا خدا کا کام بھی موج تلاطم نے کیا ڈوبنے والے حد ساحل رسی میں آ گئے غم کی کیفیت نے آنسو زیب مژگاں کر دئے شام ہوتے ہی ستارے روشنی میں آ ...

    مزید پڑھیے

    خوش کام کرو خاطر ناکام ہمیں دو

    خوش کام کرو خاطر ناکام ہمیں دو خالی ہو کہ لبریز کوئی جام ہمیں دو مایوس نہیں ہم ابھی اصلاح بشر سے ہر کوئے غلط منزل بدنام ہمیں دو جولاں گہہ خاصان محبت سے گزارو کہتے نہیں ہم شاہرہ عام ہمیں دو آراستہ گیسو سے عطا ہو فن سعدی نظروں سے ادب پارۂ خیام ہمیں دو مسلک ہے محبت کا ولاتمام ...

    مزید پڑھیے

    میں کیا کہوں کہ تری چشم التفات نہیں

    میں کیا کہوں کہ تری چشم التفات نہیں حیات شوق پہ طاری غم حیات نہیں جو دل پہ گزریں محبت کے خاص لمحوں میں حدود شرح و بیاں میں وہ واقعات نہیں غم دوام محبت ہے تشنۂ معنی فنا کے بعد اگر منزل حیات نہیں ترے بغیر بھی احساس زیست ہے لیکن تڑپ میں درد کی وہ شورش حیات نہیں مقام بے خودی عشق ...

    مزید پڑھیے

    سکوں نہیں ہے محبت میں بات بات کے بعد

    سکوں نہیں ہے محبت میں بات بات کے بعد وہ کس لباس میں آتے ہیں التفات کے بعد نہ رخ پہ غازۂ گلگوں نہ مانگ میں تارے جمال سادگی حسن ہے صفات کے بعد عجب نہیں مجھے مل جائے منصف منصور لبوں تک آ کے رکی ہے اس ایک بات کے بعد فروغ‌ جام سے اک صبح مستقل مانگو سحر ملے نہ اگر میکدے میں رات کے ...

    مزید پڑھیے

    شہر پہ چھائی ہوئی خطرۂ یلغار کی رات

    شہر پہ چھائی ہوئی خطرۂ یلغار کی رات زیب تاریخ رہے گی کرم یار کی رات شکریہ تم کو رہا پاس حجاب جاناں اے شب کوچہ و برزن در و دیوار کی رات دھوپ میں کوچہ نوردی نہیں جن کا مسلک ان پہ نازل نہ ہوئی گیسوئے خم دار کی رات میں نے دیکھے ہیں وہاں کتنے نظام شمسی دن کو کس طرح کہوں انجمن یار کی ...

    مزید پڑھیے

    گردش ارض رکے شب ہے گزرنے کے لیے

    گردش ارض رکے شب ہے گزرنے کے لیے کوئی اٹھا ہے ستاروں سے اترنے کے لیے زندگی تیرے مسائل کا سلجھنا تو الگ کس کو فرصت ہے یہاں غور بھی کرنے کے لیے شخصیت ساز محبت نے بدل دی دنیا اب وہ صورت کہاں باقی ہے مکرنے کے لیے لاکھ کر جائے ترقی فن مرہم سازی بات کے زخم تو کھلتے نہیں بھرنے کے ...

    مزید پڑھیے

    دست پر شوق ملے سب کو یہ دستور نہیں

    دست پر شوق ملے سب کو یہ دستور نہیں خار سے ورنہ یہاں دامن گل دور نہیں عشق بھی حامل آیات محبت نہ رہا چشم پر آب نہیں زخم سے دل چور نہیں مرگ عالم کو کہا جاتا ہے مرگ عالم موت طاری ہے زمانے پہ جو منصور نہیں ہاتھ ہے اک پس پردہ مرا دامن تھامے کبھی مجبور ہوں میں اور کبھی مجبور نہیں نور ...

    مزید پڑھیے

    خراب شوق ہوا جب سے اس نگاہ کا دل

    خراب شوق ہوا جب سے اس نگاہ کا دل چراغ مے کدہ ہے گاہ خانقاہ کا دل نہ جانے خاک نشیں کس کے انتظار میں ہیں کنار راہ دھڑکتا ہے کب سے راہ کا دل نوازش غم دوراں سبھی پہ یکساں ہے گناہ گار کا دل ہو کہ بے گناہ کا دل بہار سے بھی نمایاں ہے عشق کا کردار یہ لہلہاتا چمن ہے کہ بے گناہ کا دل فلاح ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 3