نم ہیں وہ آنکھیں برا ہو عشق کی تاثیر کا

نم ہیں وہ آنکھیں برا ہو عشق کی تاثیر کا
دوسرا رخ کتنا دردانگیز ہے تصویر کا


وہ مجسم حسن و تمکیں دل سراپا درد و غم
جیسے سوداؔ کے قصائد اور تغزل میرؔ کا


ہند کے لالہ رخو از روئے تعمیر وطن
رنگ ہر خطے کو دے دو جنت کشمیر کا


شوق کی آنکھیں ہیں عکاس بہار حسن دوست
دل صدا بند غنائے لحن ہے تقریر کا


تیرے خط میں بالمشافہ ہم کلامی کے مزے
طرز ہے مکتوب غالب میں یہی تحریر کا


ادعائے خود شناسی ہے سراسر بے محل
مختلف چہرہ ہو جب ہر دور کی تصویر کا


مانیؔ فن میں شخصیت ہوتی ہے ہر فن کار کی
شاعری پردہ اٹھاتی ہے مری تصویر کا