وہ شستہ شستہ گیسو پاکیزہ تر نگاہیں

وہ شستہ شستہ گیسو پاکیزہ تر نگاہیں
سائے میں میکدے کے آباد خانقاہیں


پاس ادب سے کب تک نیچی رہیں نگاہیں
شفاف آستینیں جلوہ فراش باہیں


ان کے لیے نہیں ہیں موزوں الم کراہیں
یہ گرم گرم آنسو یہ سرد سرد آہیں


گزرے ہیں وہ ادھر سے تصدیق ہو رہی ہے
گل ہے نہ گلستاں ہے مہکی ہوئی ہیں راہیں


یاد آئے ہیں ستم جب یاد آ گئے کرم بھی
مایوس ہو چلے تھے پھر مل گئیں پناہیں


خوشبوئے گل سے میرا دل بیٹھنے لگا ہے
کیوں صبح صبح آئیں پھولوں کے لب پہ آہیں


مانیؔ کی پاک بازی اس دور میں نہ چلتی
نگراں رہی ہیں دل کی ہر وقت وہ نگاہیں