مہکے گیسو عارض نورس

مہکے گیسو عارض نورس
شام اودھ اور صبح بنارس


ان سے ملنا مشکل از بس
چاندنی راتیں درباں چوکس


آنسو کو دامن میں لے لو
پھول کی خوشبو جائے رچ بس


خامے فرشتوں کے لہرائیں
عمداً ان کے شانے سے مس


وہ جن کے قبضے میں خدائی
عشق کی دنیا میں ہیں بے بس


عجز وفا بھی جرم ہے شاید
شہر بدر ہو جائیں بیکس


مانیؔ دو عالم سجدے میں
پلکیں بوجھل نظریں الکس