شاعری حاصل دیوانگی دل تو نہیں

شاعری حاصل دیوانگی دل تو نہیں
نرم حلقے تری زلفوں کے سلاسل تو نہیں


قوس ابرو خم گیسو شکن پیشانی
آج بھی عشق کے پیچیدہ مسائل تو نہیں


اک جھلک دور سے دکھلا کے وہ چھپ جاتے ہیں
سنگ میل آئے ہیں کچھ راہ میں منزل تو نہیں


تیز رو چاند گھٹاؤں میں تہ و بالا ہے
مضطرب کوئی سفینہ پئے ساحل تو نہیں


تشنگی میں نظر آتے ہیں سراب صحرا
ہر نظر پر یہ گماں ہے کوئی مائل تو نہیں


فاصلے طے نہ ہوئے راہ نوردی کے بغیر
گامزن جانب رہرو کوئی منزل تو نہیں


کیوں نہ غافل ہو فرائض سے زمانہ مانیؔ
کم یہاں وقت گزاری کے مشاغل تو نہیں