دل تباہ بھی ہے عالم خراب بھی ہے
دل تباہ بھی ہے عالم خراب بھی ہے
نگاہ دوست یہی وقت انقلاب بھی ہے
دو آتشہ سر رخسار ہو گئے آنسو
گلوں پہ قطرۂ شبنم نہیں شراب بھی ہے
نگاہ شوق لرزتے ہیں تار چلمن کے
تلاش کر انہی کرنوں میں آفتاب بھی ہے
کہاں سے دیکھیے موج سرور اٹھتی ہے
نگاہ ناز بھی ہے ساغر شراب بھی ہے
خلاف اہل سفینہ ہی ناخدا سے نہیں
جبین بحر پہ لرزاں خط عتاب بھی ہے
ہوائے دہر نے پھر دامنوں پہ ڈال دیا
وہ گرد جس میں نہاں بوئے انقلاب بھی ہے
اے جستگان رہ غم چلے چلو آگے
کوئی مقام بہ نام بہشت خواب بھی ہے
یہی وہ مانیؔ ہے سلمائے گونڈوانہ ترا
جو فیض رخ سے ترے صاحب کتاب بھی ہے