کنار چشم سے ابرو تک آ گیا کاجل

کنار چشم سے ابرو تک آ گیا کاجل
کہ آج صحن حرم میں اتر گئے بادل


نگاہ شوق گئی جب بھی خوش لباسوں تک
درست ہو گئیں زلفیں سنور گئے آنچل


نہ پوچھ حسن کے اندیشہ ہائے رسوائی
زہے جنوں کہ جسے یاد مصلحت نہ محل


مگر کسی سے نمائندگیٔ حق نہ ہوئی
صنم کدے نے تراشے ہزار لاتؔ و حبلؔ


بصد نشاط ہیں وہ مجھ پہ مہرباں مانیؔ
نظر نظر میں ترانہ نفس نفس میں غزل