دست پر شوق ملے سب کو یہ دستور نہیں

دست پر شوق ملے سب کو یہ دستور نہیں
خار سے ورنہ یہاں دامن گل دور نہیں


عشق بھی حامل آیات محبت نہ رہا
چشم پر آب نہیں زخم سے دل چور نہیں


مرگ عالم کو کہا جاتا ہے مرگ عالم
موت طاری ہے زمانے پہ جو منصور نہیں


ہاتھ ہے اک پس پردہ مرا دامن تھامے
کبھی مجبور ہوں میں اور کبھی مجبور نہیں


نور تاروں کا بجھا دے نہ مری ہم بزمی
مجھ سے ظلمت مرے سائے کی طرح دور نہیں


مانیؔ آلام سے یہ کہہ کے چھڑایا دامن
میری قسمت ہے وہی جو انہیں منظور نہیں